تِیر برسے ہمیں پر بھرے شہر میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 83
تھے ہمیں غم کے خوگر بھرے شہر میں
تِیر برسے ہمیں پر بھرے شہر میں
پھر زدستِ ہوس ہے سبک ہو چلا
جُھک گیا پھر کوئی سر بھرے شہر میں
کوئی آذر تو ہو گا ہمارے لئے
ہم کہ ٹھہرے ہیں پتّھر بھرے شہر میں
کس بھیانک خبر کا اثر مجھ پہ تھا
میں ہی تھا جیسے ششدر بھرے شہر میں
خوف کچھ دستکوں سے بڑھا اور بھی
کھُلنے پایا نہ اِک در بھرے شہر میں
کیا غضب ہے ترستا ہے پہچان کو
تجھ سا ماجدؔ سخن وَر بھرے شہر میں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s