ہم بھی دیکھیں تو اسے دیکھ کے کیا کہتے ہیں

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 38
بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیں
ہم بھی دیکھیں تو اسے دیکھ کے کیا کہتے ہیں
ہم تصور میں بھی جو بات ذرا کہتے ہیں
سب میں اڑ جاتی ہے ظالم اسے کیا کہتے ہیں
جو بھلے ہیں وہ بروں کو بھی بھلا کہتے ہیں
نہ برا سنتے ہیں اچھے نہ برا کہتے ہیں
وقت ملنے کا جو پوچھا تو کہا کہہ دیں گے
غیر کا حال جو پوچھا تو کہا کہتے ہیں
نہیں ملتا کسی مضمون سے ہمارا مضمون
طرز اپنی ہے جدا سب سے جدا کہتے ہیں
پہلے تو داغ کی تعریف ہوا کرتی تھی
اب خدا جانے وہ کیوں اس کو برا کہتے ہیں
داغ دہلوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s