سفر ، میرا تعاقب کر رہا ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 118
کہاں آرام لمحہ بھر رہا ہے
سفر ، میرا تعاقب کر رہا ہے
رہی ہوں بے اماں موسم کی زد پر
ہتھیلی پر ہَوا کی ، سر رہا ہے
میں اِک نو زائیدہ چڑیا ہوں لیکن
پُرانا باز ، مُجھ سے ڈر رہا ہے
پذیرائی کو میری شھرِ گل میں
صبا کے ہاتھ میں پتّھر رہا ہے
ہَوائیں چُھو کے رستہ بُھول جائیں
مرے تن میں کوئی منتر رہا ہے
میں اپنے آپ کو ڈسنے لگی ہوں
مجھے اب زہر اچھا کر رہا ہے
کھلونے پا لیے ہیں میں نے لیکن
مرے اندر کا بچہ مر رہا ہے
پروین شاکر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s