سُن میاں ہوتی ہیں ان کی خواریاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 3
ہیں سبھی سے جن کی گہری یاریاں
سُن میاں ہوتی ہیں ان کی خواریاں
ہے خوشی عیاروں کا اک ثمر
غم کی بھی اپنی ہیں کچھ عیاریاں
ذرّے ذرّے پر نہ جانے کس لیے
ہر نفس ہیں کہکشائیں طاریاں
اس نے دل دھاگے ہیں ڈالے پاؤں میں
یہ تو زنجیریں ہیں بےحد بھاریاں
تم کو ہے آداب کا برص و جزام
ہیں ہماری اور ہی بیماریاں
خواب ہائے جاودانی پر مرے
چل رہی ہیں روشنی کی آریاں
ہیں یہ سندھی اور مہاجر ہڈحرام
کیوں نہیں یہ بیچتے ترکاریاں
یار! سوچو تو عجب سی بات ہے
اُس کے پہلو میں مری قلقاریاں
ختم ہے بس جون پر اُردو غزل
اس نے کی ہیں خون کی گل کاریاں
جون ایلیا

سُن میاں ہوتی ہیں ان کی خواریاں” پر 1 تبصرہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s