دُور ہا دُور آ چُکا ہوں میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 110
تم سے بھی اب تو جا چُکا ہوں میں
دُور ہا دُور آ چُکا ہوں میں
یہ بہت غم کی بات ہو شاید
اب تو غم بھی گنوا چُکا ہوں میں
اس گمانِ گماں کے عالم میں
آخرش کیا بُھلا چُکا ہوں میں
اب ببر شیر اشتہا ہے میری
شاعروں کو تو کھا چُکا ہوں میں
میں ہوں معمار پر یہ بتلا دوں
شہر کے شہر ڈھا چُکا ہوں میں
حال ہے اک عجب فراغت کا
اپنا ہر غم منا چُکا ہوں میں
لوگ کہتے ہیں میں نے جوگ لیا
اور دھونی رَما چُکا ہوں میں
نہیں اِملا دُرست غالب کا
شیفتہ کو بتا چُکا ہوں میں
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s