بنیاد کچھ تو ہو

کوئے ستم کی خامشی آباد کچھ تو ہو

کچھ تو کہو ستم کشو، فریاد کچھ تو ہو

بیداد گر سے شکوۂ بیداد کچھ تو ہو

بولو، کہ شورِ حشر کی ایجاد کچھ تو ہو

مرنے چلے تو سطوتِ قاتل کا خوف کیا

اتنا تو ہو کہ باندھنے پائے نہ دست و پا

مقتل میں‌ کچھ تو رنگ جمے جشنِ رقص کا

رنگیں لہو سے پنجۂ صیاد کچھ تو ہو

خوں پر گواہ دامنِ جلّاد کچھ تو ہو

جب خوں بہا طلب کریں ،بنیاد کچھ تو ہو

گرتن نہیں ، زباں سہی، آزاد کچھ تو ہو

دشنام، نالہ، ہاؤ ہو، فریاد کچھ تو ہو

چیخے ہے درد، اے دلِ برباد کچھ تو ہو

بولو کہ شورِ حشر کی ایجاد کچھ تو ہو

بولو کہ روزِ عدل کی بنیاد کچھ تو ہو

(منٹگمری جیل)

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s