اک یہ ملک، اور رزق اور گیت اور خوشیاں

مجید امجد ۔ غزل نمبر 185
مل کر سب تعمیر کریں اک ارماں
اک یہ ملک، اور رزق اور گیت اور خوشیاں
جیتی مٹی! تیرے نام کی ٹھنڈک
میرے اک اک گرم آنسو میں پنہاں
گلی کوئی بےنام، مکاں میں بےنمبر
ہے آباد مرا گھر، کنعاں کنعاں
شفق دھلی میزوں کے گرد وہ چہرے
آنکھیں جن میں جییں کسی کے پیماں
دور سے دیکھو، اونچا پل اس شہر کا
پانیوں پر اک لوہے کی یہ کہکشاں
ذکر کا اک پل اس کمرے میں گراں اور
اک بےمصرف سال کا چلّہ ارزاں
لوحیں طاق پہ ہیں اور ان کے نوشتے
تقدیروں میں تڑپنے والے طوفاں
دنیا اک دائم آباد محلہ
اس اینٹوں کے ابد میں سائے انساں
مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s