اس نے کل مڑ کے مجھ سے دل مانگا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 86
روئے عالم تھا جس کی جولاں گہ
اس نے کل مڑ کے مجھ سے دل مانگا
دھیان میں روز چھم چھماتا ہے
قہقہوں سے لدا ہوا تانگا
دو طرف بنگلے، ریشمی نیندیں
اور سڑک پر فقیر اک نانگا
اب کے تو بک گیا سرِ مسجد
ان سیہ آڑھتوں میں اک بانگا
سبز پتوں کی اک فصیل ابھری
جب بھی گنجان باڑ کو جھانگا
وقت کے گھاٹ پر کسی کو تو ہو
اپنے دل میں اترنے کا ہانگا
پھونک کر بانسری میں آگ اک بار
گانے والے سرودِ باراں گا
مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s