دم گھٹ رہا ہے سایۂ ابرِ بہار میں

مجید امجد ۔ غزل نمبر 82
دن کٹ رہے ہیں کشمکشِ روزگار میں
دم گھٹ رہا ہے سایۂ ابرِ بہار میں
آتی ہے اپنے جسم کے جلنے کی بو مجھے
لٹتے ہیں نکہتوں کے سبو جب بہار میں
گزرا ادھر سے جب کوئی جھونکا تو چونک کر
دل نے کہا: یہ آ گئے ہم کس دیار میں؟
اے کنجِ عافیت، تجھے پا کر پتہ چلا
کیا ہمہمے تھے گردِ سرِ رہگزار میں
میں ایک پل کے رنجِ فراواں میں کھو گیا
مرجھا گئے زمانے مرے انتظار میں
مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s