ایک کوہستانی سفر کے دوران میں

تنگ پگڈنڈی سرِ کہسار بل کھاتی ہوئی

نیچے، دونوں سمت، گہرے غار منہ کھولے ہوئے

آگے، ڈھلوانوں کے پار، اک تیز موڑ اور اس جگہ

اک فرشتے کی طرح نورانی پر تولے ہوئے

جھک پڑا ہے آ کے رستے پر کوئی نخلِ بلند

تھام کر جس کو گزر جاتے ہیں آسانی کے ساتھ

موڑ پر سے، ڈگمگاتے رہرووں کے قافلے

ایک بوسیدہ، خمیدہ پیڑ کا کمزور ہاتھ

سینکڑوں گرتے ہوؤں کی دستگیری کا امیں

آہ! ان گردن فرازانِ جہاں کی زندگی

اک جھکی ٹہنی کا منصب بھی جنہیں حاصل نہیں

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s