چاند ہے تُو رات کے اسباب سے باہر نہ آ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 17
پانیوں میں رقص کر، تالاب سے باہر نہ آ
چاند ہے تُو رات کے اسباب سے باہر نہ آ
سرسراتے سانپ ہیں گہری سنہری گھاس میں
جنگلوں میں پابرہنہ خواب سے باہر نہ آ
ہجر کے تاریک منظر میں یہی امکان گاہ
چاندنی سے قریہ ء مہتاب سے باہر نہ آ
اک وہی رہنے دے اپنی آنکھ میں تصویر بس
ساعتِ بھرپور سے شاداب سے باہر نہ آ
آگ دوزخ کی ہے سورج کی نگاہِ ناز میں
اور کچھ دن حجلہ ء برفاب سے باہر نہ آ
لاکھ دے دشنام شیخِ بدنسب کے کام کو
زندگی تُو ، منبر و محراب سے باہر نہ آ
ذات کی پاتال میں ہو گی بلندی عرش کی
ڈوب جا منصور کے گرداب سے باہر نہ آ
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s