تُو ہے سمندروں کا کنارہ کہیں جسے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 549
مشکل کشا کہیں جسے، چارہ کہیں جسے
تُو ہے سمندروں کا کنارہ کہیں جسے
تُو صرف ایک آخری امید کی کرن
ہر گمشدہ سحر کا ستارہ کہیں جسے
حاصل ہے تیرا نام ہی حرف و کلام کا
مِل مِل کے اپنے ہونٹ دوبارہ کہیں جسے
ہم سے زیادہ اورمکرم کوئی نہیں
ہے دو جہاں کا والی ،ہمارا کہیں جسے
ایسا تو اور کوئی نہیں کائنات میں
منصور بے کسوں کا سہاراکہیں جسے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s