اک تغیر موسموں میں لا رہا ہے نور سا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 31
روشنی آئندہ میں پھیلا رہا ہے نور سا
اک تغیر موسموں میں لا رہا ہے نور سا
دے رہا ہے موت کے قیدی کو شاید حوصلہ
ایک روزن سے ابھی تک آرہا ہے نور سا
دیکھتا ہوں اپنی امی کے قدم اٹھتے ہوئے
چل رہی ہیں وہ یا چلتا جا رہا ہے نور سا
شام ڈھلتی جارہی ہے اک جنازے کے قریب
موت کے دربار میں کچھ گا رہا ہے نور سا
برف کے منصور طوفاں میں کرم کا گرم غار
لکڑیوں سے آگ بھی دہکا رہا ہے نور سا
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s