قبضہ ہو دلوں پر کیا اور اس سے سوا تیرا

قبضہ ہو دلوں پر کیا اور اس سے سوا تیرا

اک بندۂ نا فرماں ہے حمد سرا تیرا

گو سب سے مقدم ہے حق تیرا ادا کرنا

بندے سے مگر ہو گا حق کیونکہ ادا تیرا

محرم بھی ہے ایسا ہی جیسا کہ ہے نامحرم

کچھ کہہ نہ سکا جس پر یاں بھید کھلا تیرا

جچتا نہیں نظروں میں یاں خلعت سلطانی

کملی میں مگن اپنی رہتا ہے گدا تیرا

عظمت تری مانے بن کچھ بن نہیں آتی یاں

ہیں خیرہ و سرکش بھی دم بھرتے سدا تیرا

تو ہی نظر آتا ہے ہر شے پر محیط ان کو

جو رنج و مصیبت میں کرتے ہیں گلا تیرا

نشہ میں وہ احساں کے سرشار ہیں اور بیخود

جو شکر نہیں کرتے نعمت پہ ادا تیرا

آفاق میں پھیلے گی کب تک نہ مہک تیری

گھر گھر لئے پھرتی ہے پیغام صبا تیرا

ہر بول ترا دل سے ٹکرا کے گزرتا ہے

کچھ رنگ بیاں حالیؔ ہے سب سے جدا تیرا

الطاف حسین حالی

قبضہ ہو دلوں پر کیا اور اس سے سوا تیرا” پر 3 تبصرے

  1. ہر بول ترا دل سے ٹکرا کے گزرتا ہے
    کچھ رنگِ بیاں حالی ہے سب سے جدا تیرا

    اس شعر کے پہلے مصرے میں حالی کے کہنے کا کیا مطلب ہے اللہ کا ہر بول دل سے ٹکراتا ہے یا حالی کی شاعری منفرد ہونے کی وجہ سے اس کی شاعری میں اثر ہے کہ حالی کا ہر بول دل سے ٹکراتا ہے.

    پسند کریں

Leave a reply to Zakir Hussain جواب منسوخ کریں