ہم ہو گئے دنیا سے خفا اور زیادہ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 150
دل تیری اداؤں سے کھچا اور زیادہ
ہم ہو گئے دنیا سے خفا اور زیادہ
دل خون ہوا جاتا ہے دنیا کی ادا سے
یہ رنگ جما جتنا اڑا اور زیادہ
کیا داغ جلے دل کے بہ انداز چراغاں
احساس اندھیرے کا ہوا اور زیادہ
اس طرح مرے منہ پہ کوئی ہاتھ نہ رکھے
اس طرح تو گونجے گی صدا اور زیادہ
اب صورت آوارہ صدا، دل سے گزرنا
اب ٹھہرے تو چیخے گا خلا اور زیادہ
جب پڑتا ہے پھولوں پہ ترے حسن کا پرتو
گلشن میں مچلتی ہے صبا اور زیادہ
اس طرح وہ بت آیا مری راہ میں باقیؔ
یاد آنے لگا مجھ کو خدا اور زیادہ
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s