شیخ غلام ہمدانی مصحفی” پر 1 تبصرہ

  1. شیخ غلام ہمدانی مصحفی
    مصحفی، شیخ غلام ہمدانی (۱۸۲۴ – ۱۷۵۰) امروہہ کے رہنے والے تھے۔ جوانی میں دہلی آئے۔ تعلیم کی شروعات امروہہ میں، تکمیل دہلی میں ہوئی۔ ذوق شاعری دہلی میں پروان چڑھا جس کو وہ اپنا وطن جانتے تھے۔ ۲۲ سال کی عمر میں تنگ دستی سے پریشان ہو کر پہلے آنولہ گئے، پھر ٹانڈہ اور پھر لکھنؤ پہنچے۔ ایک سال بعد دہلی واپس آ گئے۔ مشق سخن جاری رہی اور بہت جلد اساتذہ سخن میں شمار ہونے لگے۔ بارہ سال بعد نواب آصف الدولہ کے دور میں مستقلاً لکھنؤ کی سکونت اختیار کر لی۔ یہاں انشاء پہلے ہی سے موجود تھے۔ انھیں کے توسط سے نواب سلیمان شکوہ کی سرکار میں بازیابی ہوئی اور ان ہی کے دربار میں انشاء اللہ خاں سے کوب معرکے بھی ہوئے۔ سلیمان شکوہ نے انشاء کا ساتھ دیا۔ نتیجتاً دربار سے تعلق ختم کر کے نواب مرزا محمد تقی سے وابستہ ہو گئے۔ آخری عمر تنگدستی میں گزری۔ مصحفی کی تصنیفوں میں نو دیوان، اردو شاعروں کے دو تذکرے، "تذکرہ ہندی”، "ریاض الفصحا” اور فارسی شاعروں کا ایک تذکرہ "عقدِ ثریا” دست یاب ہیں۔ فارسی کا ایک دیوان بھی نظیری کے جواب میں مرتب کیا تھا۔ مصحفی نے شاگردوں کی کثیر تعداد چھوڑی اور ان کا اثر دور تک پھیلا۔
    مصحفیؔ اردو میں ٹکسالی شاعری کے جتنے امام گزرے ہیں ۔ میرؔ دردؔ وغیرہ کے سلسلے میں یہ آخری بزرگ تھے جنہوں نے قدیم محاورات برقرار کھے ۔ انشاءؔ اور جرأت وغیرہ کے مقابلے میں قدامت کا علم بند رکھا ۔ کثرت مشق سے کلام پر قدرت کامل حاصل تھی ۔ غرض کہ قدما میں سے ہر ایک کے انداز پر ان کے یہاں کلام موجود ہے یہ ایک طرف تو ان کی قادر الکلامی کی دلیل ہے ۔ دوسری طرف ان کی طبیعت کی کمزروی کہ خود انہوں نے اپنا کوئی رنگ نہیں چھوڑا یہ بہروپ ہی ان کا روپ قرار پاتا۔اگر وہ دوسروں کا روپ بھی پوری کامیابی سے بھرسکتے وہ تو صرف دوسروں کی جھلک دکھاتے ہیں ان میں سما نہیں سکتے یہ صحیح ہے کہ ان کی طبیعت یاس و حرماں کی طرف مائل ہے اور اسی لیے میرؔ کی جھلک ان کے یہاں نظر آتی ہے لیکن یہ محض جھلک ہے میرؔ کی سی گہرائی نہیں۔ اسی طرح ہر ایک کا رنگ دکھانے کی کوشش کی ہے پوری طرح نباہنے کی نہیں ۔محض تھوڑی دور ہر ایک راہ رو کے ساتھ چلتے ہیں طبیعت میں کچھ حسن پرستی بھی تھی ۔ لکھنؤ میں نور کے بقعے نظر آئے تو کلام میں عاشقانہ وار داتوں کے علاوہ محبوب کے حسن کا عکس بھی پیش کرنے لگے یہی خارجیت تھی جو آگے چل کر اپنی انتہا پر پہونچ کر لکھنویت کے نام سے موسوم ہوئی ۔ کثرت مشق پر گوئی اور فروخت کردینے کے باعث ان کا کلام جو کچھ باقی رہ گیا ہے اس میں پھس پھسے اشعار زیادہ ہیں ۔ عجیب اتفاق کہ قدرت نے انشاؔ اور ان کو ہم عصر بنا کر معرکہ آرا کیا ۔ انشاؔ قواعد کی راہ سے کتراتے چلتے تھے ۔ یہ ٹکسالی شاعری کے قواعد کے باہر قدم نکالنا گناہ عظیم سمجھتے تھے ۔ ایک کے یہاں جوش تخلیق نے وہ گرما گرمی دکھائی کہ لہلاتے باغ رونما کردیے لیکن باغ بے سلیقہ ہے محض مصحفیؔ کا باغ اتنا با سلیقہ ہے کہ لطف و اثر مفقود ہوگیا ہے ۔ زیادہ تعداد اشعار کی اسی استادانہ بے اثر داخلیت کی ہے کلام کا نمونہ یہ ہے سنگلاخ زمینیں اختیار کرنا (جیسا کہ اوپر مذکور ہوا) اس زمانے کا محک استادی کا تھا۔
    شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی دہلی سے ہجرت کرکے لکھنو آئے۔ ان کی شاعری کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا شعری مزاج دہلی میں صورت پذیر ہوا لیکن لکھنوکے ماحول ، دربارداری کے تقاضوں اور سب سے بڑھ کر انشا سے مقابلوں نے انہیں لکھنوی طرز اپنانے پرمجبور کیا۔ ان کا منتخب کلام کسی بھی بڑے شاعر سے کم نہیں۔ اگر جذبات کی ترجمانی میں میر تک پہنچ جاتے ہیں تو جرات اور انشا کے مخصوص میدان میں بھی پیچھے نہیں رہتے۔ یوں دہلویت اور لکھنویت کے امتزاج نے شاعری میں شیرینی ، نمکینی پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف جنسیت کا صحت مندانہ شعور ہے تو دوسری طرف تصوف اور اخلاقی مضامین بھی مل جاتے ہیں۔ جمنا میں کل نہا کر جب اس نے بال باندھے ہم نے بھی اپنے جی میں کیا کیا خیال باندھے وہ جو ملتا نہیں ہم اس کی گلی میں دل کو در و دیوار سے بہلا کے چلے آتے ہیں تیرے کوچے میں اس بہانے ہمیں دن سے رات کرنا کبھی اس سے بات کرنا کبھی اس سے بات کرنا

    پسند کریں

تبصرہ کریں