امیر مینائی کا کلام

امیر مینائی

*یہ کلام اردو محفل سائٹ سے لیا گیا ہے جو کہ فرخ منظور نے مرتب کیا

  1. تیور نہیں آتے ہیں کہ چکر نہیں آتا
  2. یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا
  3. کچھ اور بلا ہوتی ہے وہ دل نہیں ہوتا
  4. مٹ گئے ہم، تو مِلا ہم کو ٹھکانا تیرا
  5. حشر کہتے ہیں جسے شہر ہے عریانوں کا
  6. ذرا سی بات میں ہوتا ہے فیصلہ دل کا
  7. عمرِ رفتہ کو بھی بُلوائیے گا
  8. آئینہ ایک طرف، عکس بھی حیراں ہو گا
  9. تو ہنس کے بولے وہ منہ قابل نقاب نہ تھا
  10. ہم آج پیر ہوئے کیا کبھی شباب نہ تھا
  11. سب تڑپنے بلبلانے کا مزہ جاتا رہا
  12. سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا
  13. گھر میں ہوں گھر سے نکل کر بھی نظر کی صورت
  14. دبی بات ہونٹوں میں منہ سے نکل کر
  15. جس طرح آشنا کسی ناآشنا کے پاس
  16. ملک الموت ہیں دربان درِ خانۂ عشق
  17. تب ہم نہ رہے وفا کے قابل
  18. یہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم
  19. پیچھے نہ لگاؤ اس بلا کو
  20. دل میں ہزار درد اُٹھے آنکھ تر نہ ہو
  21. سخت کم ظرفی ہے اک دو بوند پانی پر گھمنڈ
  22. چھوٹے جو بوئے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ
  23. اِک جانِ ناتواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
  24. کس کے آگے جا کے سر پھوڑوں الٰہی کیا کروں؟
  25. ڈھونڈ نے اس کو چلا ہوں جسے پا ہی نہ سکوں
  26. تو سراپا ناز ہے میں ناز برداروں میں ہوں
  27. کہتا ہے حُسن میں نہ رہوں گا حجاب میں
  28. ساقی ہزار شکر خدا کی جناب میں
  29. ہر رہ گزر میں راہ تری دیکھتا ہوں میں
  30. اجل شرما گئی سمجھی کہ مجھ کو پیار کرتے ہیں
  31. یہ بادل جب برستے ہیں لبِ کوثر برستے ہیں
  32. اپنے سب کام بگڑ کر وہ بنا لیتے ہیں
  33. نگہ نیچی کیئے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں
  34. کیا ناز و نیاز ہو رہے ہیں
  35. غم سے بے اختیار سا ہے کچھ
  36. نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ
  37. خوب نکالا آپ نے جوبن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
  38. رقصِ بسمل پہ قضا لوٹ گئی
  39. ساقیا! ہلکی سی لا اِن کے لئے
  40. درد بول اٹھا ۔ تڑپنا چاہئے
  41. کبھی اس گھر میں آ نکلے کبھی اُس گھر میں جا ٹھہرے
  42. کام اپنا، نام اُس کا کر چلے
  43. غش بھی آیا تو مِری روح کو رخصت کرنے
  44. کبھی جاتی ہے دل میں، کیا رسیلی نرم بولی ہے
  45. کہیں غربت برستی ہے کہیں حسرت برستی ہے
  46. قدم کوئی کہاں رکھے؟ جدھر دیکھو اُدھر دل ہے
  47. ہم مرے جاتے ہیں، تم کہتے ہو حال اچھا ہے
  48. آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے
  49. میں روتا ہوں، اس کو ہنسی سوجھتی ہے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s