یہی بہت ہے
آج وہ مدھم چاپیں
اس رستے سے اُبھری تھیں
تم جس پر
لحظہ بھر کو
رُک سے گئے ہو
پیڑ سے لپٹا جھونکا
گھاس میں اُلجھی خوشبو
اور دِیوار پہ
نادیدہ سا دھبہ
جس کو تم نے اپنی
پور پہ اب محسوس کیا ہے
جل تھل ایک ہوا ہو جس میں
ایسی مست، نرالی رُت کا
ذکر ہی کیا ہے
یہی بہت ہے
آسمان پر اُڑتا بادل
دھرتی کے شانوں کو
چھو کر
گزر گیا ہے …
گلناز کوثر