ٹیگ کے محفوظات: یکتا

یہ سب تو ہونا ہی تھا

میں بھٹکا، بھُولا ہی تھا
یہ سب تو ہونا ہی تھا
میں بھٹکا بھولا ہی سہی
پر کیا وہ رستہ ہی تھا؟
ہم سے دوست سلوک ترا
کیا کہتے!۔۔۔ اچھا ہی تھا
یہ جو پل گزرا ہے ابھی
کیا گزرا پورا ہی تھا؟
توڑ دیا کس نے اس کو؟
غنچہ ابھی چٹخا ہی تھا
اتنا وزن تھا پھولوں کا
ڈال نے تو جھکنا ہی تھا
دردِ دل! اے دردِ عزیز!
تو کیا درد مرا ہی تھا؟
جو بھی اس نے ہم کو دیا
واپس تو لینا ہی تھا
روشنیاں کب تک رہتیں
سورج تھا! ڈھلنا ہی تھا
ڈوبتے سورج سے میرا
روز کا سمجھوتا ہی تھا
کرتا تھا میں خود پہ ستم
اور کرتا بے جا ہی تھا
ہر اک رستہ تھا صحرا!!
صحرا تھا!!! صحرا ہی تھا
آنکھوں میں کب تک رہتا
آنسو تھا، گرنا ہی تھا
یہ جو آخری آنسو گرا
یوں سمجھو، پہلا ہی تھا
یاؔور جیسے کتنے ہیں
جونؔ مگر یکتا ہی تھا
یاور ماجد

وہ جو ہم کثرت والوں میں یکتا ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 70
چشم غلط انداز سے کیسے تکتا ہے
وہ جو ہم کثرت والوں میں یکتا ہے
یہ وہ باغ لئیم ہے جس کی شاخوں پر
نفعِ یک طرفہ کا میوہ پکتا ہے
یہ بھی کرم ہے اپنے وعدہ نوازوں کا
سامنے اوندھا رکھا جام چھلکتا ہے
یونہی اس شعلے کو جلتا رہنے دو
اور بجھانے سے یہ اور بھڑکتا ہے
شاید سیلِ ہوا کی آمد آمد ہو
ورنہ کیوں گلشن میں ایسا سکتا ہے
یاد آ جائے کوئی ناہمواری سی
ورنہ مے پینے سے کون مہکتا ہے
آفتاب اقبال شمیم