ٹیگ کے محفوظات: گھڑیال

لگائی پرندوں نے چوپال ہے

سحر کی نکلنے لگی فال ہے
لگائی پرندوں نے چوپال ہے
دسمبر کا دن آخری آ گیا
پڑا آج لمحوں کا پھر کال ہے
وہی جو کہ توڑا تھا پچھلے برس
وہی عہد میرا پھر اس سال ہے
وہی جو کہ تھا حال پچھلے برس
وہی حال اپنا پھر اس سال ہے
نئی کونپلیں پھر سے کھلنے لگیں
اترنے لگی پیڑ سے چھال ہے
نیا زہر پھر سے بنائے گا یہ
اترنے لگی سانپ کی کھال ہے
لپیٹے چلے اک بھنور میں مجھے
مرے سامنے یہ جو گھڑیال ہے
چلا شب کی بانہوں میں خورشید تو
ہوا شرم سے کس قدر لال ہے
یاور ماجد

پانیوں کو چاند نے اشکال کا تحفہ دیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 113
دائروں کی آنکھ دی، بھونچال کا تحفہ دیا
پانیوں کو چاند نے اشکال کا تحفہ دیا
رفتہ رفتہ اجنبی لڑکی لپٹتی ہی گئی
برف کی رت نے بدن کی شال کا تحفہ دیا
سوچتا ہوں وقت نے کیوں زندگی کے کھیل میں
پاؤں میرے چھین کر فٹ بال کا تحفہ دیا
’’آگ جلتی ہے بدن میں ‘‘بس کہا تھا کار میں
ہم سفر نے برف کے چترال کا تحفہ دیا
رات ساحل کے کلب میں مچھلیوں کو دیر تک
ساتھیوں نے اپنے اپنے جال کا تحفہ دیا
کچھ تو پتھر پر ابھر آیا ہے موسم کے طفیل
کچھ مجھے اشکوں نے خدوخال کا تحفہ دیا
پانیوں پر چل رہے تھے عکس میرے ساتھ دو
دھوپ کو اچھا لگا تمثال کا تحفہ دیا
وقت آگے تو نہیں پھر بڑھ گیا منصور سے
یہ کسی نے کیوں مجھے گھڑیال کا تحفہ دیا
منصور آفاق