جو بھی بہتے دریا سے اپنا چلّو بھر لے، یہ دریا اس کا ہے
اپنی سب پاکیزگیوں کے ساتھ اس کا ہے
چاہے اس پانی میں جیسے بھی جوہر ہوں
اچھے برے جوہر، جو دریا کی سیال حقیقت میں اک ساتھ پنپ کر
بجھ کر، تپ کر، یوں ظاہرہیں، سب طاہر ہیں
جس کی پیاس کو اس پانی پر حق ہو
اسے بھلا کیوں شک ہو کہ ان قطروں میں مقیّد ہیں، وہ جوہر جو جیّد ہیں
دل میں پانی کی ٹھنڈک یہ کہتی ہے کہ طلب کا جو حاصل بھی ہے طیب ہے
ٹھنڈک پانے والا اسی یقین کے بل پر
اپنے گمان میں خوشیوں کی اس موج سے اپنی روح کے جوہڑ بھر لیتا ہے
جس کی چھلک اس کی آنکھوں کے ڈوروں تک آتی ہے
کتنے چہروں پر ہے اپنے آپ میں کافی ہونے کی اک یہ کیفیت
ان قدروں کی اچھی سی اک دین کہ جن کے مقدس دریا
سب گدلے ہیں!
مجید امجد