ٹیگ کے محفوظات: گت

بے کس ہوئے بے بس ہوئے بے کل ہوئے بے گت ہوئے

دیوان چہارم غزل 1493
بے دل ہوئے بے دیں ہوئے بے وقر ہم ات گت ہوئے
بے کس ہوئے بے بس ہوئے بے کل ہوئے بے گت ہوئے
ہم عشق میں کیا کیا ہوئے اب آخر آخر ہوچکے
بے مت ہوئے بے ست ہوئے بے خود ہوئے میت ہوئے
الفت جو کی کہتا ہے جی حالت نہیں عزت نہیں
ہم بابت ذلت ہوئے شائستۂ کلفت ہوئے
گر کوہ غم ایسا گراں ہم سے اٹھے پس دوستاں
سوکھے سے ہم دینت ہوئے تنکے سے ہم پربت ہوئے
کیا رویئے قیدی ہیں اب رویت بھی بن گل کچھ نہیں
بے پر ہوئے بے گھر ہوئے بے زر ہوئے بے پت ہوئے
آنکھیں بھر آئیں جی رندھا کہیے سو کیا چپکے سے تھے
جی چاہتا مطلق نہ تھا ناچار ہم رخصت ہوئے
یامست درگا ہوں میں شب کرتے تھے شاہد بازیاں
تسبیح لے کر ہاتھ میں یا میر اب حضرت ہوئے
میر تقی میر

دل نہ رہے جو ہاتھ رکھے تو سماجت ات گت مت کریو

دیوان سوم غزل 1240
آج ہمارا جی بے کل ہے تم بھی غفلت مت کریو
دل نہ رہے جو ہاتھ رکھے تو سماجت ات گت مت کریو
ڈھیری رہے اک خاک کی تو کیا ایسے خاک برابر کی
مجھ کو زمیں میں گاڑوگے تو نشان تربت مت کریو
ایسی جان کہاں ہے ہم میں رنج نہ دینا ہاتھوں کو
ایک ہی وار میں ہو چکیے گا دوسری ضربت مت کریو
ہم کو تو مارا عشق نے آخر پر یہ وصیت یاد رہے
دیر جہاں میں تم جو ہو تو کسو سے الفت مت کریو
میری طرف کی یارو اس سے بات کوئی کہتے ہو کہو
مانے نہ مانے وہ جانے پھر تم بھی منت مت کریو
کہیے سو کیا اب چپکے دیکھو گو میں اس میں مر جائوں
تم کو قسم ہے حرف و سخن کی مجھ سے مروت مت کریو
ہوش نہیں اپنا تو ہمیں ٹک میر آئے ہیں پرسش کو
جانے سے آگے ان کو ہمارے پیارے رخصت مت کریو
میر تقی میر