ٹیگ کے محفوظات: کہاں

پر مطلقاً کہیں ہم اس کا نشاں نہ پایا

دیوان اول غزل 90
یاں نام یار کس کا ورد زباں نہ پایا
پر مطلقاً کہیں ہم اس کا نشاں نہ پایا
وضع کشیدہ اس کی رکھتی ہے داغ سب کو
نیوتا کسو سے ہم وہ ابرو کماں نہ پایا
پایا نہ یوں کہ کریے اس کی طرف اشارت
یوں تو جہاں میں ہم نے اس کو کہاں نہ پایا
یہ دل کہ خون ہووے برجا نہ تھا وگرنہ
وہ کون سی جگہ تھی اس کو جہاں نہ پایا
فتنے کی گرچہ باعث آفاق میں وہی تھی
لیکن کمر کو اس کی ہم درمیاں نہ پایا
محروم سجدہ آخر جانا پڑا جہاں سے
جوش جباہ سے ہم وہ آستاں نہ پایا
ایسی ہے میر کی بھی مدت سے رونی صورت
چہرے پہ اس کے کس دن آنسو رواں نہ پایا
میر تقی میر

سب کہیں گے یہ کہ کیا اک نیم جاں مارا گیا

دیوان اول غزل 76
ہاتھ سے تیرے اگر میں ناتواں مارا گیا
سب کہیں گے یہ کہ کیا اک نیم جاں مارا گیا
اک نگہ سے بیش کچھ نقصاں نہ آیا اس کے تیں
اور میں بے چارہ تو اے مہرباں مارا گیا
وصل و ہجراں یہ جو دو منزل ہیں راہ عشق کی
دل غریب ان میں خدا جانے کہاں مارا گیا
دل نے سر کھینچا دیارعشق میں اے بوالہوس
وہ سراپا آرزو آخر جواں مارا گیا
کب نیاز عشق ناز حسن سے کھینچے ہے ہاتھ
آخر آخر میر سر برآستاں مارا گیا
میر تقی میر

القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا

دیوان اول غزل 25
شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا
القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا
گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شاید
خوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا
لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتے
جاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا
دی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کو
یاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا
ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے
پیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا
ان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئی
ہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا
تب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنا
اب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا
فتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہے
وہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا
کم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھو
احوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا
سجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے اس کو
سید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا
ناحق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابر
طاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا
ہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارے
ویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا
جس دن کہ اس کے منھ سے برقع اٹھے گا سنیو
اس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا
ناحق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارے
ہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا
سودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پا
سر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا
سو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہے
اوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بدزباں کا
یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گذری
کیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا
قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کی
گلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا
پوچھو تو میر سے کیا کوئی نظر پڑا ہے
چہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا
میر تقی میر

وہ ہستی اپنے ہونے کے نشاں پوشیدہ رکھتی ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 105
بدن میں جاں ، زمیں میں آسماں پوشیدہ رکھتی ہے
وہ ہستی اپنے ہونے کے نشاں پوشیدہ رکھتی ہے
شئے نازک ذرا سی ضرب سے تقسیم ہو جائے
کہ آئینے کی وحدت کرچیاں پوشیدہ رکھتی ہے
ذرا پرہیز ہے مجھ کو زرِ دنیا کی نعمت سے
یہ میرے سود میں میرا زیاں پوشیدہ رکھتی ہے
جسے بانٹوں تو سب ناداریاں دنیا کی مٹ جائیں
زمیں اپنا وہ گنجینہ کہاں پوشیدہ رکھتی ہے
ہے اپنی ذات میں جو رنگ و نسلِ لفظ سے بالا
خموشی اپنے اندر وہ زباں پوشیدہ رکھتی ہے
یہ اولاد مسیحا اصل میں آلِ سکندر ہے
دکھاوے کی صلیبوں میں سناں پوشیدہ رکھتی ہے
آفتاب اقبال شمیم

یہی لگا کہ جیسے میرے سر سے آسماں گیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 21
نظر کے شہ نشیں سے اُٹھ کے جب وُہ مہرباں گیا
یہی لگا کہ جیسے میرے سر سے آسماں گیا
بس ایک عکس دور ہی ملا سڑک کے موڑ پر
جو موتیے کے ہار بیچتا تھا وہ کہاں گیا
ہوا کا خوش نورد اپنے ساتھ گرد لے اُڑا
چلا تو تھا سبک سبک مگر گراں گراں گیا
ملا نہ اسمِ آخریں ، درِ شفا نہ وا ہوا
اگرچہ دور دور تک یقیں گیا، گماں گیا
وہی نظر کے فاصلے وہی دلوں کی دُوریاں
ملا نہ کوئی آشنا وہ اجنبی جہاں گیا
مگر یہ کیا ضرور ہے کہ پھر سے تجربہ کریں
وُہ ایک کارِ رائیگاں تھا اور رائیگاں گیا
یہ نغمۂ مراد ہے، رُکے تو پھر سے چھیڑ دے
رہے گا اپنے پاس کیا جو ذکرِ دوستاں گیا
آفتاب اقبال شمیم

جو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 32
اب وہی حرفِ جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
جو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے
آج تک شیخ کے اکرام میں جو شے تھی حرام
اب وہی دشمنِ دیں ، راحتِ جاں ٹھہری ہے
ہے خبر گرم کہ پھرتا ہے گریزاں ناصح
گفتگو آج سرِ کوئے بتاں ٹھہری ہے
ہے وہی عارضِ لیلیٰ ، وہی شیریں کا دہن
نگہِ شوق گھڑی بھر کو جہاں ٹھہری ہے
وصل کی شب تھی تو کس درجہ سبک گزری تھی
ہجر کی شب ہے تو کیا سخت گراں ٹھہری ہے
بکھری اک بار تو ہاتھ آئی ہے کب موجِ شمیم
دل سے نکلی ہے تو کب لب پہ فغاں ٹھہری ہے
دستِ صیاد بھی عاجز ، ہے کفِ گلچیں بھی
بوئے گل ٹھہری نہ بلبل کی زباں ٹھہری ہے
آتے آتے یونہی دم بھر کو رکی ہو گی بہار
جاتے جاتے یونہی پل بھر کو خزاں ٹھہری ہے
ہم نے جو طرزِ فغاں کی ہے قفس میں ایجاد
فیض گلشن میں وہی طرزِ بیاں ٹھہری ہے
فیض احمد فیض

ٹھہر ٹھہر کے یہ ہوتا ہے آج دل کو گماں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 8
صبا کے ہاتھ میں نرمی ہے ان کے ہاتھوں کی
ٹھہر ٹھہر کے یہ ہوتا ہے آج دل کو گماں
وہ ہاتھ ڈھونڈ رہے ہیں بساطِ محفل میں
کہ دل کے داغ کہاں ہیں نشستِ درد کہاں
فیض احمد فیض

فیض احمد فیض ۔ قطعات

فیض احمد فیض ۔ قطعات
رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے
**
دل رہین غم جہاں ہے آج
ہر نفس تشنۂ فغاں ہے آج
سخت ویراں ہے محفل ہستی
اے غم دوست! تو کہاں ہے آج

**

وقف حرمان و یاس رہتا ہے
دل ہے اکثر اداس رہتا ہے
تم تو غم دے کے بھول جاتے ہو
مجھ کو احساں کا پاس رہتا ہے
**
فضائے دل پر اداسی بکھرتی جاتی ہے
فسردگی ہے کہ جاں تک اترتی جاتی ہے
فریب زیست سے قدرت کا مدعا معلوم
یہ ہوش ہے کہ جوانی گزرتی جاتی ہے
متفرق اشعار
فیض احمد فیض

خامشی آکے سرِ خلوتِ جاں بولتی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 340
زیرِ محراب نہ بالائے مکاں بولتی ہے
خامشی آکے سرِ خلوتِ جاں بولتی ہے
یہ مرا وہم ہے یا مجھ کو بلاتے ہیں وہ لوگ
کان بجتے ہیں کہ موجِ گزراں بولتی ہے
لو سوالِ دہنِ بستہ کا آتا ہے جواب
تیر سرگوشیاں کرتے ہیں کماں بولتی ہے
ایک میں ہوں کہ اس آشوبِ نوا میں چپ ہوں
ورنہ دُنیا مرے زخموں کی زباں بولتی ہے
ہوُ کا عالم ہے گرفتاروں کی آبادی میں
ہم تو سنتے تھے کہ زنجیرِ گراں بولتی ہے
درد کے باب میں تمثال گری ہے خاموش
بن بھی جاتی ہے تو تصویر کہاں بولتی ہے
عرفان صدیقی

ناوکِ کور کماں کس کی طرف دیکھتا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 314
اے مرے طائر جاں کس کی طرف دیکھتا ہے
ناوکِ کور کماں کس کی طرف دیکھتا ہے
ہم کسے اپنے سوا عشق میں گردانتے ہیں
دلِ بے مایہ یہاں کس کی طرف دیکھتا ہے
بانوئے ناقہ نشیں دیکھ کے چہرہ تیرا
بندۂ خاک نشاں کس کی طرف دیکھتا ہے
میں تو اک منظرِ رفتہ ہوں مجھے کیا معلوم
اب جہانِ گزراں کس کی طرف دیکھتا ہے
ہم سب آئینہ در آئینہ در آئینہ ہیں
کیا خبر کون‘ کہاں‘ کس کی طرف دیکھتا ہے
اس کے بسمل ہیں سو ہم دیکھتے ہیں اس کی طرف
وہ شہِ چارہ گراں کس کی طرف دیکھتا ہے
عرفان صدیقی

کون ہے جس کے لیے نامۂ جاں لکھتے ہو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 123
تم جو عرفانؔ یہ سب دردِ نہاں لکھتے ہو
کون ہے جس کے لیے نامۂ جاں لکھتے ہو
جانتے ہو کہ کوئی موج مٹا دے گی اسے
پھر بھی کیا کیا سرِ ریگِ گزراں لکھتے ہو
جس کے حلقے کا نشاں بھی نہیں باقی کوئی
اب تک اس رشتے کو زنجیرِ گراں لکھتے ہو
یہ بھی کہتے ہو کہ احوال لکھا ہے جی کا
اور یہ بھی کہ حدیثِ دگراں لکھتے ہو
یہ بھی لکھتے ہو کہ معلوم نہیں ان کا پتا
اور خط بھی طرفِ گمشدگاں لکھتے ہو
سایہ نکلے گا جو پیکر نظر آتا ہے تمہیں
وہم ٹھہرے گا جسے سروِ رواں لکھتے ہو
اتنی مدت تو سلگتا نہیں رہتا کچھ بھی
اور کچھ ہو گا جسے دل کا دھواں لکھتے ہو
کوئی دلدار نہیں تھا تو جتاتے کیا ہو
کیا چھپاتے ہو اگر اس کا نشاں لکھتے ہو
تم جو لکھتے ہو وہ دُنیا کہیں ملتی ہی نہیں
کون سے شہر میں رہتے ہو‘ کہاں لکھتے ہو
عرفان صدیقی

اک ذرا منظرِ غرقابی جاں دیکھئے گا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 41
ہر طرف ڈوبتے سورج کا سماں دیکھئے گا
اک ذرا منظرِ غرقابی جاں دیکھئے گا
سیرِ غرناطہ و بغداد سے فرصت پاکر
اس خرابے میں بھی خوابوں کے نشاں دیکھئے گا
یہ در و بام یہ چہرے یہ قبائیں یہ چراغ
دیکھئے بارِ دگر ان کو کہاں دیکھئے گا
راہ میں اور بھی قاتل ہیں اجازت لیجے
جیتے رہیے گا تو پھر کوئے بتاں دیکھئے گا
شاخ پر جھومتے رہنے کا تماشا کیا ہے
کبھی صرصر میں ہمیں رقص کناں دیکھئے گا
یہی دُنیا ہے تو اس تیغِ مکافات کی دھار
ایک دن گردنِ خنجر پہ رواں دیکھئے گا
دل طرفدارِ حرم، جسم گرفتارِ فرنگ
ہم نے کیا وضع نکالی ہے میاں دیکھئے گا
عرفان صدیقی

یہ لگ رہا ہے مجھے ناگہاں تباہی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 637
تباہی ہے شبِ آئندگاں تباہی ہے
یہ لگ رہا ہے مجھے ناگہاں تباہی ہے
کوئی معاشرہ ممکن نہیں بجز انصاف
جہاں جہاں پہ ستم ہے وہاں تباہی ہے
میں ٹال سکتا نہیں آیتوں کی قرآت سے
لکھی ہوئی جو سرِ آسماں تباہی ہے
گزر گیا ہے جو طوفاں گزرنے والاتھا
یہ ملبہ زندگی ہے، اب کہاں تباہی ہے
بچھے ہوئے کئی بھونچال ہیں مکانوں میں
دیارِ دل میں مسلسل رواں تباہی ہے
دعا کرو کہ قیامت میں دیکھتا ہوں قریب
مرے قریب کوئی بے کراں تباہی ہے
فراز مند ہے ابلیس کا علم منصور
گلی گلی میں عجب بے نشاں تباہی ہے
منصور آفاق

چاند جب آسماں سے اٹھتا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 597
کوئی دہلیزِ جاں سے اٹھتا ہے
چاند جب آسماں سے اٹھتا ہے
ہے ابھی کوئی خالی بستی میں
وہ دھواں سا مکاں سے اٹھتا ہے
چھوڑ آتا ہے نقشِ پا کا چراغ
پاؤں تیرا جہاں سے اٹھتا ہے
جس بلندی کو عرش کہتے ہیں
ذکر تیراؐ وہاں سے اٹھتا ہے
اس نے سینے پہ ہاتھ رکھ کے کہا
درد سا کچھ یہاں سے اٹھتا ہے
اک ستارہ صفت سرِ آفاق
دیکھتے ہیں کہاں سے اٹھتا ہے
ہم ہی ہوتے ہیں اس طرف منصور
پردہ جب درمیاں سے اٹھتا ہے
منصور آفاق

تُو جہاں ہے کوئی موجود وہاں ہے کہ نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 398
آسماں ! بول کہ اُس پار جہاں ہے کہ نہیں
تُو جہاں ہے کوئی موجود وہاں ہے کہ نہیں
اس خلاباز کی آواز میں سناٹے تھے
چاند پر جس نے کہا ’کوئی یہاں ہے کہ نہیں
مجھ میں موجود ہے کیسے ،یہ سمجھنا ہے ابھی
یہ سوال اور ہے ذرہ میں کہاں ہے کہ نہیں
کوئی لوٹا ہی نہیں روح کے تہہ خانے سے
کیسے معلوم ہو وہ مجھ میں نہاں ہے کہ نہیں
سو گئی تھی جو زرِ فاحشہ کے بستر میں
وہ سپہ آج کفِ شعلہ دھاں ہے کہ نہیں
پھر نکل عرشِ محبت کے سفر پر منصور
پہلے یہ دیکھ وہاں جان جہاں ہے کہ نہیں
منصور آفاق

برف کے لوگ کوئی بات کہاں سنتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 386
جمع ہو جاتے ہیں سورج کا جہاں سنتے ہیں
برف کے لوگ کوئی بات کہاں سنتے ہیں
ایک آسیب ہے اس شخص کی رعنائی بھی
خوشبوئیں بولتی ہیں رنگ وہاں سنتے ہیں
ایک ویرانہ ہے، قبریں ہیں ، خموشی ہے مگر
دل یہ کہتا ہے کہ کچھ لوگ یہاں سنتے ہیں
زندگی ان کی شہیدوں کی طرح ہے شاید
آنکھ رکھتے ہیں شجر، بات بھی، ہاں ! سنتے ہیں
تخت گرتے ہیں تو یاد آتی ہے اپنی ورنہ
ہم فقیروں کی کہاں شاہ جہاں سنتے ہیں
بیٹھ کر ہم بھی ذرا ذاتِ حرا میں منصور
وہ جو آواز ہے سینے میں نہاں ، سنتے ہیں
منصور آفاق

پھر مہرباں ہوئی کسی نا مہرباں کی یاد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 155
وہ خواب گاہِ عرش وہ باغِ جناں کی یاد
پھر مہرباں ہوئی کسی نا مہرباں کی یاد
آنکھوں میں کس کے عارض و لب کے چراغ ہیں
پھرتی ہے یہ خیال میں آخر کہاں کی یاد
پھر گونجنے لگی ہے مرے لاشعور میں
روزِ ازل سے پہلے کے کچھ رفتگاں کی یاد
میں آسماں نژاد زمیں پر مقیم ہوں
کچھ ہے یہاں کا درد تو کچھ ہے وہاں کی یاد
کوئی نہ تھا جہاں پہ مری ذات کے سوا
آئی سکوتِ شام سے اُس لا مکاں کی یاد
دیکھوں کہیں خلوص تو آتی ہے ذہن میں
پیچھے سے وار کرتے ہوئے دوستاں کی یاد
دریائے ٹیمز! اپنے کنارے سمیٹ لے
آئی ہے مجھ کو سندھ کے آبِ رواں کی یاد
منصور آ رہی ہے سرِ آئینہ مجھے
اِس شہرِ پُر فریب میں سادہ دلاں کی یاد
منصور آفاق

چھیڑو نہ تم کو میرے بھی منہ میں زباں ہے اب

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 27
مجھ میں وہ تاب ضبط شکایت کہاں ہے اب
چھیڑو نہ تم کو میرے بھی منہ میں زباں ہے اب
وہ دن گئے کہ حوصلۂ ضبط راز تھا
چہرے سے اپنے شورش پنہاں عیاں ہے اب
جس دل کو قید ہستی دنیا سے تنگ تھا
وہ دل اسیر حلقہ زلف بتاں ہے اب
آنے لگا جب اس کی تمنا میں کچھ مزا
کہتے ہیں لوگ جان کا اس میں زیاں ہے اب
حالیؔ تم اور ملازمت پیرے فروش
وہ علم و دیں کدھر ہے وہ تقویٰ کہاں ہے اب
الطاف حسین حالی

اِک جانِ ناتواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 23
شمشیر ہے سناں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
اِک جانِ ناتواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
مہمان اِدھر ہما ہے اُدھر ہے سگِ حبیب
اِک مشتِ استخواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
درباں ہزار اس کے یہاں ایک نقدِ جاں
مال اس قدر کہاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
بلبل کو بھی ہے پھولوں کی گلچیں کو بھی طلب
حیران باغباں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
سب چاہتے ہیں اس سے جو وعدہ وصال کا
کہتا ہے اک زباں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
شہزادے دختِ رز کے ہزاروں ہی خواستگار
چپ مرشدِ مغاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
یاروں کو بھی ہے بوسے کی غیروں کو بھی طلب
ششدر وہ جانِ جاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
دل مجھ سے مانگتے ہیں ہزاروں حسیں امیر
کتنا یہ ارمغاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
امیر مینائی

جانے یہ سلسلہ کہاں تک ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 252
آپ تک ہے نہ غم جہاں تک
جانے یہ سلسلہ کہاں تک ہے
اشک شبنم ہوں یا تبسم گل
ابھی ہر راز گلستاں تک ہے
ان کی پرواز کا ہے شور بہت
گرچہ اپنے ہی آشیاں تک ہے
پھول ہیں اس کے باغ ہے اس کا
دسترس جس کی باغباں تک ہے
پوچھتے ہیں وہ حال دل باقیؔ
یہ بھی گویا مرے بیاں تک ہے
باقی صدیقی

یقیں کتنا ہی پختہ ہو گماں تک ساتھ دیتا ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 246
خیال سود احساس زیاں تک ساتھ دیتا ہے
یقیں کتنا ہی پختہ ہو گماں تک ساتھ دیتا ہے
بدلتے جا رہے ہیں دمبدم حالات دنیا کے
تمہارا غم بھی اب دیکھیں کہاں تک ساتھ دیتا ہے
خیال ناخدا پھر بھی مسلط ہے زمانے پر
کہاں کوئی بھلا سیل رواں تک ساتھ دیتا ہے
زمانے کی حقیقت خود بخود کھُل جائے گی باقیؔ
چلا چل تو بھی وہ تیرا جہاں تک ساتھ دیتا ہے
باقی صدیقی

کچھ نہ کچھ نذر جہاں کرنا پڑے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 226
دل کا یا جی کا زیاں کرنا پڑے
کچھ نہ کچھ نذر جہاں کرنا پڑے
دل کو ہے پھر چند کانٹوں کی تلاش
پھر نہ سیر گلستاں کرنا پڑے
حال دل ان کو بتانے کے لئے
ایک عالم سے بیاں کرنا پڑے
پاس دنیا میں ہے اپنی بھی شکست
اور تجھے بھی بدگماں کرنا پڑے
ہوشیار اے جذب دل اب کیا خبر
تذکرہ کس کا کہاں کرنا پڑے
اب تو ہر اک مہرباں کی بات پر
ذکر دور آسماں کرنا پڑے
زیست کی مجبوریاں باقیؔ نہ پوچھ
ہر نفس کو داستاں کرنا پڑے
باقی صدیقی

کچھ مہرباں جدا ہوئے کچھ مہرباں ملے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 214
غم اور خوشی کے راستے آ کر جہاں ملے
کچھ مہرباں جدا ہوئے کچھ مہرباں ملے
جن کے طفیل بزم تمنا میں رنگ تھا
وہ لوگ تجھ کو گردش دوراں کہاں ملے
راہوں پہ آج ان کا تصور بھی ہے گراں
منزل کے پاس کل جو ہمیں کارواں ملے
اہل نظر سے دل کی مہم سر نہ ہو سکی
کچھ سرنگوں ملے ہیں تو کچھ سرگراں ملے
روداد شوق تشنۂ اظہار ہی رہی
ملنے کو ہم خیال ملے، ہم زباں ملے
خوں رو رہے تھے کل جو بہاروں کی یاد میں
وہ آج بے نیاز غم گلستاں ملے
باقیؔ نہ تھی اگرچہ فریب وفاکی تاب
پھر بھی رُکے نقوش محبت جہاں ملے
باقی صدیقی

آگے دل کی خوشی جہاں ٹھہرے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 201
ہم تو دنیا سے بدگماں ٹھہرے
آگے دل کی خوشی جہاں ٹھہرے
ہائے وہ قافلے جو لٹ کر بھی
زیر دیوار گلستاں ٹھہرے
آپ کو کارواں سے کیا مطلب
آپ تو میر کارواں ٹھہرے
زندگی چاہتی ہے ہنگامہ
اور ہم لوگ بے زباں ٹھہرے
کبھی تیری تلاش میں نکلے
کبھی بن کر ترا نشاں ٹھہرے
گردش دہر ساتھ ساتھ رہی
ہم جدھر بھی گئے، جہاں ٹھہرے
ہر قدم پر تھا اک صنم خانہ
کیا بتائیں کہاں کہاں ٹھہرے
ہر نظر سنگ راہ تھی باقیؔ
کیا بتائیں کہاں کہاں ٹھہرے
کچھ تو کج رو جہاں بھی ہے باقیؔ
اور کچھ ہم بھی قصّہ خواں ٹھہرے
باقی صدیقی

بغض دوستاں چہرے لطف دشمناں چہرے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 200
اردوگرد دیواریں اور درمیاں چہرے
بغض دوستاں چہرے لطف دشمناں چہرے
گردش زمانہ کا اک طویل افسانہ
یہ جلی جلی نظریں، یہ دھواں دھواں چہرے
نقش نقش پر برہم، داغ داغ پر خنداں
زندگی کی راہوں میں رہ گئے کہاں چہرے
قہقہوں کے ساغر میں ڈھل سکیں نہ وہ باتیں
موج لب سے پہلے ہی کر گئے بیاں چہرے
موسموں کی تلخی کا کچھ سراغ دیتے ہیں
شاخ جسم نازک پر برگ بے زباں چہرے
اک خیال دنیا کاکر گیا سکوں برہم
اک ہوا کے جھونکے سے ہو گئے عیاں چہرے
رنگ و بو کی تصویریں آئنے بدلتی ہیں
خار کی خلش چہرے، پھول کا گماں چہرے
رک گئے وہاں ہم بھی ایک دو گھڑی باقیؔ
جس جگہ نظر آئے چند مہرباں چہرے
باقی صدیقی

تم نہ ہوتے تو ہم کہاں ہوتے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 198
بے نشاں رہتے بے نشاں ہوتے
تم نہ ہوتے تو ہم کہاں ہوتے
مہر و مہ کو نہ یہ ضیا ملتی
آسماں بھی نہ آسماں ہوتے
تم نے تفسیر دو جہاں کی ہے
ورنہ یہ راز کب عیاں ہوتے
تم دکھاتے اگر نہ راہ حیات
جانے کس سمت ہم رواں ہوتے
ہمیں اپنی جبیں نہ مل سکتی
اتنے غیروں کے آستاں ہوتے
ایک انسان بھی نہ مل سکتا
گرچہ آباد سب مکاں ہوتے
کھل نہ سکتی کلی مسرت کی
غم ہی غم زیب داستاں ہوتے
مقصد زندگی نہ پا سکتے
اپنی ہستی سے بدگماں ہوتے
ہمیں کوئی نہ آسرا ملتا
بے اماں ہوتے ہم جہاں ہوتے
تو نے بخشی ہے روشنی ورنہ
دیدہ و دل دھواں دھواں ہوتے
باقی صدیقی

جیتے رہو، خوش رہو، جہاں ہو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 96
کیا تم سے گلہ کہ مہرباں ہو
جیتے رہو، خوش رہو، جہاں ہو
خون دل کا معاملہ ہے
دنیا ہو کہ تیرا آستاں ہو
منت کش داستاں سرا ہے
میری ہو کہ تیری داستاں ہو
دنیا مجھے کہہ رہی ہے کیا کیا
کچھ تم بھی کہو کہ رازداں ہو
کس سوچ میں پڑ گئے ہو باقیؔ
دنیا تو وہیں ہے تم کہاں ہو
باقی صدیقی

جہاں کر دے کوئی افسانہ خواں ختم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 80
وہیں سمجھو ہماری داستاں ختم
جہاں کر دے کوئی افسانہ خواں ختم
شکست زسیت کا دل پر اثر کیا
مگر ہے راہ و رسم دوستاں ختم
وہاں سے میرا افسانہ چلے گا
جہاں ہو گی تمہاری داستاں ختم
الجھتا جا زمانے کی نظر سے
کبھی تو ہو گا دور امتحاں ختم
اگر ہم چپ بھی ہو جائیں تو باقیؔ
زمانہ بات کرتا ہے کہاں ختم
باقی صدیقی

پھر جہان گزراں یاد آیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 64
سود یاد آیا، زیاں یاد آیا
پھر جہان گزراں یاد آیا
ہوش آنے لگا دیوانے کو
عقل کا سنگ گراں یاد آیا
جرس غم نے پکارا ہم کو
کاروان دل و جاں یاد آیا
اک نہ اک زخم رہا پیش نظر
تم نہ یاد آئے جہاں یاد آیا
نیند چبھنے لگی بند آنکھوں میں
جب چراغوں کا دھواں یاد آیا
کوئی ہنگامۂ روز و شب میں
یاد آ کر بھی کہاں یاد آیا
دیکھ کر صورت منزل باقیؔ
دعویٔ ہمسفراں یاد آیا
باقی صدیقی