ٹیگ کے محفوظات: ڈیرے

کیا پھول کھلے ہیں منہ اندھیرے

یہ شب یہ خیال و خواب تیرے
کیا پھول کھلے ہیں منہ اندھیرے
شعلے میں ہے ایک رنگ تیرا
باقی ہیں تمام رنگ میرے
آنکھوں میں چھپائے پھر رہا ہوں
یادوں کے بجھے ہوے سویرے
دیتے ہیں سراغ فصلِ گل کا
شاخوں پہ جلے ہوے بسیرے
منزل نہ ملی تو قافلوں نے
رستے میں جما لیے ہیں ڈیرے
جنگل میں ہوئی ہے شام ہم کو
بستی سے چلے تھے منہ اندھیرے
رودادِ سفر نہ چھیڑ ناصر
پھر اشک نہ تھم سکیں گے میرے
ناصر کاظمی

سوز و درد و داغ و الم سب جی کو گھیرے پھرتے ہیں

دیوان سوم غزل 1177
عشق نے خوار و ذلیل کیا ہم سر کو بکھیرے پھرتے ہیں
سوز و درد و داغ و الم سب جی کو گھیرے پھرتے ہیں
ہر شب ہوں سرگشتہ و نالاں اس بن کوچہ و برزن میں
یاس نہیں ہے اب بھی دیکھوں کب دن میرے پھرتے ہیں
دل لشکر میں ایک سپاہی زادے نے ہم سے چھین لیا
ہم درویش طلب میں اس کی ڈیرے ڈیرے پھرتے ہیں
بے خود اس کی زلف و رخ کے کاہے کو آپ میں پھر آئے
ہم کہتے ہیں تسلی دل کو سانجھ سویرے پھرتے ہیں
نقش کسو کا درون سینہ گرم طلب ہیں ویسے رنگ
جیسی خیالی پاس لیے تصویر چتیرے پھرتے ہیں
برسے اگر شمشیر سروں پر منھ موڑیں زنہار نہیں
سیدھے جانے والے ادھر کے کس کے پھیرے پھرتے ہیں
پاے نگار آلودہ کہیں سانجھ کو میر نے دیکھے تھے
صبح تک اب بھی آنکھوں میں اس کی پائوں تیرے پھرتے ہیں
میر تقی میر

جاتی رت، ہوئیں گے کب پیڑ گھنیرے میرے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 269
بور میرے، نہ پرندوں کے بسیرے میرے
جاتی رت، ہوئیں گے کب پیڑ گھنیرے میرے
اور اے نہر ترا رنگ بدل جائے گا
اور اس دشت سے اُٹھ جائیں گے ڈیرے میرے
جسم کا بوجھ بھی آواز کی لہکار کے ساتھ
اک ذرا بین کو جنبش دے سپیرے میرے
ہیں سبھی بکھرے ہوئے خواب مری آنکھوں میں
دے گئے مجھ کو مرا مال لٹیرے میرے
عرفان صدیقی