ٹیگ کے محفوظات: ڈھلک

جاتی نہیں ہے اشک کی رخسار کے ڈھلک

دیوان دوم غزل 838
دیکھی تھی تیرے کان کے موتی کی اک جھلک
جاتی نہیں ہے اشک کی رخسار کے ڈھلک
یارب اک اشتیاق نکلتا ہے چال سے
ملتے پھریں ہیں خاک میں کس کے لیے فلک
طاقت ہو جس کے دل میں وہ دو چار دن رہے
ہم ناتوان عشق تمھارے کہاں تلک
برسوں ہوئے کہ جان سے جاتی نہیں خلش
ٹک ہل گئی تھی آگے مرے وہ پھری پلک
آئی نہ ہاتھ میر کی میت پہ کل نماز
تابوت پر تھی اس کے نپٹ کثرت ملک
میر تقی میر

ہم تو بشر ہیں اس جا پر جلتے ہیں ملک کے

دیوان اول غزل 529
مشکل ہے ہونا روکش رخسار کی جھلک کے
ہم تو بشر ہیں اس جا پر جلتے ہیں ملک کے
مرتا ہے کیوں تو ناحق یاری برادری پر
دنیا کے سارے ناتے ہیں جیتے جی تلک کے
کہتے ہیں گور میں بھی ہیں تین روز بھاری
جاویں کدھر الٰہی مارے ہوئے فلک کے
لاتے نہیں نظر میں غلطانی گہر کو
ہم معتقد ہیں اپنے آنسو ہی کی ڈھلک کے
کل اک مژہ نچوڑے طوفان نوح آیا
فکر فشار میں ہوں میر آج ہر پلک کے
میر تقی میر