ٹیگ کے محفوظات: ڈھائے

تُو بُلائے گا بھی تَو آئے گا کون

رَوِشِ دِل تری بھُلائے گا کون
تُو بُلائے گا بھی تَو آئے گا کون
ہم نے کردی اگر نمائشِ غم
تیرے کوچے میں آئے جائے گا کون
بزمِ عشّاق میں ہے سنّاٹا
اُس نے پوچھا ہے کہ نبھائے گا کون
چَپّے چَپّے پر ایک قصرِ اَنا
دیکھنا یہ ہے اِن کو ڈھائے گا کون
میری ایذا پسندیوں کو ہے فکر
تم نہ ہو گے تو پھر ستائے گا کون
رنج و غم کو عزیز ہُوں ضامنؔ
ورنہ یوں روز آئے جائے گا کون
ضامن جعفری

پھر وہی رنگ بہ صد طور جلائے بھی گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 173
خواب کے رنگ دل و جاں میں سجائے بھی گئے
پھر وہی رنگ بہ صد طور جلائے بھی گئے
انہیں شہروں کوشتابی سے لپیٹا بھی گیا
جو عجب شوق فراخی سے بچھائے بھی گئے
بزمِ شوق کا کسی کی کہیں کیا حال جہاں
دل جلائے بھی گئے اور بجھائے بھی گئے
پشت مٹی سے لگی جس میں ہماری لوگو!
اُسی دنگل میں ہمیں داؤ سِکھائے بھی گئے
یادِ ایام کہ اک محفلِ جاں تھی کہ جہاں
ہاتھ کھینچے بھی گئے اور مِلائے بھی گئے
ہم کہ جس شہر میں تھے سوگ نشینِ احوال
روز اس شہر میں ہم دھوم مچائے بھی گئے
یاد مت رکھیو رُوداد ہماری ہرگز
ہم تھے وہ تاج محل جون جو ڈھائے بھی گئے
جون ایلیا