ٹیگ کے محفوظات: پینا

وہ قحطِ عشق کہ دشوار ہو گیا جینا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 1
نہ کوئی تازہ رفاقت نہ یارِ دیرینہ
وہ قحطِ عشق کہ دشوار ہو گیا جینا
مرے چراغ تو سورج کے ہم نسَب نکلے
غلط تھا اب کے تری آندھیوں کا تخمینہ
یہ زخم کھائیو سر پر بپاسِ دستِ سبُو
وہ سنگِ محتسب آیا، بچائیو مینا
تمھیں بھی ہجر کا دکھ ہے نہ قُرب کی خواہش
سنو کہ بھول چکے ہم بھی عہدِ پارینہ
چلو کہ بادہ گساروں کو سنگسار کریں
چلو کہ ٹھہرا ہے کارِ ثواب خوں پینا
اس ایک شخص کی سج دھج غضب کی تھی کہ فراز
میں دیکھتا تھا، اسے دیکھتا تھا آئینہ
احمد فراز

ہے مفت کی شراب اسے پینا چاہئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 43
مرنا اگر ضرور ہے تو جینا چاہئے
ہے مفت کی شراب اسے پینا چاہئے
چاہے کہ دیکھ کر بھی نہ دیکھا کرے کوئی
اِس حکمراں کو خلقتِ نابینا چاہئے
دیکھیں کہ عکس کوئی بدلتا ہے کس طرح
اک اور آئینہ پسِ آئینہ چاہئے
بیٹھے رہیں مرقعِٔ ایام کھول کر
قربت میں کوئی ہمدمِ دیرینہ چاہئے
طے کر سکو گے راہِ محبت کی منزلیں !
دل میں بہت غرور بڑا کینہ چاہئے
آ اِس طرح سے حسن کو نا مطمئن کریں
اس زخمِ شاعری کو کبھی سینا چاہئے
آفتاب اقبال شمیم