ٹیگ کے محفوظات: پارک

سنا ہے پھر کوئی پھرتی ہے شارک پانی میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 342
لگا دئیے گئے خطرے کے مارک پانی میں
سنا ہے پھر کوئی پھرتی ہے شارک پانی میں
اے بلدیہ کوئی بارش سے بھی روابط رکھ
کہ کھو گیاہے وہ بچوں کا پارک پانی میں
پڑا ہوا تھا وہ دریا میں اور پیاسا تھا
اتر رہا ہے سو بوتل کا کارک پانی میں
مجھے کرنٹ کنارے پہ لگ رہا تھا رات
ترے بدن کا عجب تھا سپارک پانی میں
میں رو دیا تو اچانک کسی نے آن کیا
ہزار واٹ کا اک بلب ڈارک پانی میں
منصور آفاق