ٹیگ کے محفوظات: نکلتے

وہ زخمۂ رگِ جاں توڑ کر نکلتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 67
سکوت بن کے جو نغمے دلوں میں پلتے ہیں
وہ زخمۂ رگِ جاں توڑ کر نکلتے ہیں
حضور آپ شب آرائیاں کریں لیکن
فقط نمودِ سحر تک چراغ جلتے ہیں
اگر فضا ہے مخالف تو زلف لہراؤ
کہ بادبان ہواؤں کا رُخ بدلتے ہیں
کوئی بھی فیصلہ دینا ابھی درست نہیں
کہ واقعات ابھی کروٹیں بدلتے ہیں
یہ پاسِ پیر مغاں ہے کہ ضعفِ تشنہ لبی
نشہ نہیں ہے مگر لڑکھڑا کے چلتے ہیں
خدا کا نام جہاں بیچتے ہیں لوگ فراز
بصد وثوق وہاں کاروبار چلتے ہیں
احمد فراز

داغ جیسے چراغ جلتے ہیں

دیوان اول غزل 287
سوزش دل سے مفت گلتے ہیں
داغ جیسے چراغ جلتے ہیں
اس طرح دل گیا کہ اب تک ہم
بیٹھے روتے ہیں ہاتھ ملتے ہیں
بھری آتی ہیں آج یوں آنکھیں
جیسے دریا کہیں ابلتے ہیں
دم آخر ہے بیٹھ جا مت جا
صبر کر ٹک کہ ہم بھی چلتے ہیں
تیرے بے خود جو ہیں سو کیا چیتیں
ایسے ڈوبے کہیں اچھلتے ہیں
فتنہ درسر بتان حشر خرام
ہائے رے کس ٹھسک سے چلتے ہیں
نظر اٹھتی نہیں کہ جب خوباں
سوتے سے اٹھ کے آنکھ ملتے ہیں
اس سر زلف کا خیال نہ چھوڑ
سانپ کے سر ہی یاں کچلتے ہیں
تھے جو اغیار سنگ سینے کے
اب تو کچھ ہم کو دیکھ ٹلتے ہیں
شمع رو موم کے بنے ہیں مگر
گرم ٹک ملیے تو پگھلتے ہیں
میر صاحب کو دیکھیے جو بنے
اب بہت گھر سے کم نکلتے ہیں
میر تقی میر