موسموں کے بدلنے کا منظر تو پیچھے کہیں رہ گیا
کھیت کی مینڈ پر چھاؤں میں شیشموں کی
بھرے کنڈ میں!
جامنوں کے گھنے جھنڈ میں!
کوئلوں اور پپیہوں کی آواز کے شور میں
اُمڈے جذبات کے زور میں
وقت یوں بہہ گیا جیسے آنسو کا قطرہ تھا بے مایہ سا
قہقہہ تھا جو پھولوں کی خوشبو میں گھل مل گیا
کتنے کردار ہیں سامنے
ہنستے روتے ہوئے
زندگی کی کشاکش میں اُلجھے ہوئے
عشق کرتے ہوئے آہیں بھرتے ہوئے
جان راحت پہ ہر آن مرتے ہوئے
بے خبر ساری دنیا سے اِک دوسرے کو سنبھالے ہوئے
ہاتھوں کو چومتے بوسے آنکھوں کو دیتے ہوئے
بہتے جاتے ہیں موج رواں کی طرح
ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے
ایک دیکھی ہوئی فلم کا ایسا منظر ہے یہ
جس کے کردار اب گویا افسانہ ہیں
فلم بوسیدہ اتنی ہے چلتے ہوئے ٹوٹ جاتی ہے پھر جوڑتا ہوں اسے
جوڑ کر پھر چلاتا ہوں خوش ہوتا ہوں
گاہے روتا ہوں میں
اِک بہت خوب صورت سی رنگین تصویر ہے
کتنے لمحات میرے بھی اس فلم میں بند ہیں
وہ جو دھندلا سا چہرہ نظر آ رہا تھا تمھیں
پیڑ کی آڑ میں
وہ، جہاں سادہ کپڑوں میں
اِک مہ جبیں ہنس رہی ہے کھڑی
اس کے بائیں طرف میں ہوں وہ!
اتنی دلکش کہانی ہے جی چاہتا ہے کہ پھر سے بنا لوں
ہر وہ چہرے جو اس فلم کی جان ہیں
وہ کہاں ہیں؟
انہیں کس طرح؟
کیسے لاؤں گا میں؟