ٹیگ کے محفوظات: مِلے

رُوپ کی مایا جن کو کر کر لمبے ہات مِلے

کاسہِ سر کو ان سے کچھ پتھر خیرات مِلے
رُوپ کی مایا جن کو کر کر لمبے ہات مِلے
یُوں سِمٹا بیٹھا ہُوں اندھیارے کی بانہوں میں
بھولے بھٹکے شاید تیری زُلف کی رات مِلے
کاش اک ایسی صُبح بھی آئے ہجر کی رات کے بعد
جب میں سو کر اُٹھوں ہات میں تیرا ہات مِلے
شہرِسمن کو چھوڑا جن کی یاد سے گھبرا کر
بَن میں وُہ قاتل لمحے گرد کی صورت سات ملیِ
تم سے جیالے انساں ہم نے کم دیکھے ہیں ، شکیبؔ
اس کوچے میں یوں تو اور بہت حضرات ملے
شکیب جلالی

جس سے ملے ہم دل سے مِلے

منھ پہ کیے سب شِکوے گِلے
جس سے ملے ہم دل سے مِلے
دُکھ میں دامن چھوڑ دیا
سُکھ میں ساتھی آن مِلے
چارہ گروں کی بات نہ کر
زخم، نہ سِلنے تھے نہ سِلے
حُسنِ تکلّم، لُطفِ بیاں
کلیاں چٹکیں، پھول کِھلے
وہ سمجھیں یا ہم جانیں
بات کہی اور لَب نہ ہلے
غم کی شدّت میں بھی، شکیبؔ
لوگوں سے ہم ہنس کے ملے
شکیب جلالی