ٹیگ کے محفوظات: معالج

کردار ہم میں تیسرا حارج ہوا تو بس

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 189
میرے سوا کسی کو بھی میسج ہوا تو بس
کردار ہم میں تیسرا حارج ہوا تو بس
آسیب سرسرائیں سمندر کی چاپ میں
لہروں سے ہمکلام یہ کاٹج ہوا تو بس
پانی میں بہہ گئے ہیں غریبوں کے صبح و شام
پھر آسماں زمیں کا معالج ہوا تو بس
تھوڑا سا دم چراغ کے چہرے میں رہ گیا
اس مرتبہ بھی صبح کو فالج ہوا تو بس
میں لکھ رہا ہوں گم شدہ قبروں کی ڈائری
ابدال ایسا کشفِ مدارج ہوا تو بس
برسوں پھر اس کے بعد مجھے جاگنا پڑے
اک خواب میری نیند سے خارج ہوا تو بس
یہ روشنی، یہ پھول، یہ خوشبو، یہ سات رنگ
جب بند لڑکیوں کا یہ کالج ہوا تو بس
میں جا رہا ہوں آپ کے کہنے پہ اس کے پاس
میرا خراب دوستو امیج ہوا تو بس
منصور گفتگو ہے یہ پہلی کسی کے ساتھ
اک حرف کا غلط جو مخارج ہوا تو بس
منصور آفاق