ٹیگ کے محفوظات: لگا

ہم نے ہر فکر کو فردا پہ اُٹھا رکھا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 323
ابھی کھلنے کے لیے بند قبا رکھا ہے
ہم نے ہر فکر کو فردا پہ اُٹھا رکھا ہے
کیا چھپاؤں مرے مہتاب کہ تیرے آگے
دل کف دست کے مانند کھلا رکھا ہے
ہے مری خاک بدن آئینہ گر تیرا کمال
تونے کس چیز کو آئینہ بنا رکھا ہے
کیسی آنکھیں ہیں کہ دریاؤں کو پہچانتی ہیں
کیسا دل ہے کہ سرابوں سے لگا رکھا ہے
ایک ہی رنگ ہے، تیرے لب و رخسار کا رنگ
اور میرے ورق سادہ میں کیا رکھا ہے
MERGED ابھی کھلنے کے لیے بندِ قبا رکھا ہے
ہم نے ہر کام کو فردا پہ اٹھا رکھا ہے
کیا چھپاؤں مرے دلدار کہ تیرے آگے
دل کفِ دست کے مانند کھلا رکھا ہے
ہے مری خاکِ بدن آئینہ گر تیرا کمال
تو نے کس چیز کو آئینہ بنا رکھا ہے
ہم تعارف ہی سے دیوانے ہوئے جاتے ہیں
اور ابھی مرحلۂ کارِ وفا رکھا ہے
ایک ہی رنگ ترے اسم دل آویز کا رنگ
اور میرے ورقِ سادہ میں کیا رکھا ہے
عرفان صدیقی

تو جہاں چاہے وہاں موجِ ہوا لے چل مجھے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 295
میں تو اِک بادل کا ٹکڑا ہوں، اُڑالے چل مجھے
تو جہاں چاہے وہاں موجِ ہوا لے چل مجھے
خوُد ہی نیلے پانیوں میں پھر بلالے گا کوئی
ساحلوں کی ریت تک اَے نقشِ پا لے چل مجھے
تجھ کو اِس سے کیا میں اَمرت ہوں کہ اِک پانی کی بوُند
چارہ گر، سوکھی زبانوں تک ذرا لے چل مجھے
کب تک اِن سڑکوں پہ بھٹکوں گا بگولوں کی طرح
میں بھی کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک ہوں صبا لے چل مجھے
اَجنبی رَستوں میں آخر دُھول ہی دیتی ہے ساتھ
جانے والے اَپنے دامن سے لگا لے چل مجھے
بند ہیں اس شہرِ ناپرساں کے دروازے تمام
اَب مرے گھر اَے مری ماں کی دُعا لے چل مجھے
عرفان صدیقی

اور اک شمع تہہ خاک دبا بھی آئے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 243
اک دیا شام خموشاں میں جلا بھی آئے
اور اک شمع تہہ خاک دبا بھی آئے
اب کے اُس در سے نہ نکلا کسی اُمید کا چاند
شب کے سناٹے میں آواز لگا بھی آئے
یہ سفر کتنا اکیلا ہے کہ عادت تو نہ تھی
دُور تک ساتھ کوئی حرف دعا بھی آئے
اُس کی پرچھائیں کا دھوکا نہیں ہونے والا
اب مری سمت اگر ظل ہما بھی آئے
غم دنیا میں غم جاں کی حقیقت کیا ہے
دوسرے چپ ہوں تو کچھ اپنی صدا بھی آئے
تو بہت دیر میں دیوانہ بنانے نکلی
ہم تو اے باؤلی رُت خاک اُڑا بھی آئے
ماں کے انتقال پر
عرفان صدیقی

کھول یہ بندِ وفا اور رہا کر اس کو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 112
ڈار سے اس کی نہ عرفانؔ جدا کر اس کو
کھول یہ بندِ وفا اور رہا کر اس کو
نظر آنے لگے اپنے ہی خط و خالِ زوال
اور دیکھا کرو آئینہ بنا کر اس کو
آخرِ شب ہوئی آغاز کہانی اپنی
ہم نے پایا بھی تو اک عمر گنوا کر اس کو
دیکھتے ہیں تو لہو جیسے رگیں توڑتا ہے
ہم تو مر جائیں گے سینے سے لگا کر اس کو
تیرے ویرانے میں ہونا تھا اجالا نہ ہوا
کیا ملا اے دلِ سفّاک جلا کر اس کو
اور ہم ڈھونڈتے رہ جائیں گے خوشبو کا سراغ
ابھی لے جائے گی اِک موج اُڑا کر اس کو
عرفان صدیقی

چراغ گھات میں ہیں اور ہوا نشانے پر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 92
الٹ گیا ہے ہر اک سلسلہ نشانے پر
چراغ گھات میں ہیں اور ہوا نشانے پر
غزل میں اس کو ستم گر کہا تو روٹھ گیا
چلو‘ یہ حرفِ ملامت لگا نشانے پر
میں اپنے سینے سے شرمندہ ہونے والا تھا
کہ آگیا کوئی تیرِ جفا نشانے پر
خدا سے آخری رشتہ بھی کٹ نہ جائے کہیں
کہ اب کے ہے مرا دستِ دُعا نشانے پر
وہ شعلہ اپنی ہی تیزی میں جل بجھا ورنہ
رکھا تھا خیمۂ صبر و رضا نشانے پر
میں انتظار میں ہوں کون اسے شکار کرے
بہت دنوں سے ہے میری نوا نشانے پر
عرفان صدیقی

سنگِ جہاں نزاد ہوں ، کوئی تراشتا مجھے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 589
ہوتے مرے بھی خال و خد، آئینہ دیکھتا مجھے
سنگِ جہاں نزاد ہوں ، کوئی تراشتا مجھے
کشفِ وصال و ہجر میں کیسا شعورِ ذات ہے
عشق کہے میں کون ہوں حسن کہے وفا مجھے
اس کے خرامِ ناز پر کوئی چراغ کیا جلا
شب کے نگار خانے میں بادِ صبا لگا مجھے
لکھی غزل ہے میر نے میرے چُرا چُرا کے خواب
غالبِ خستہ حال نے بارِ دگر کہا مجھے
قریہء ماہ تاب تک چھان کے آ گیا ہوں میں
منزلِ وصل کے لیے اتنا نہ اب پھرا مجھے
اس کو حیات بخش دی، مہر منیر ہو گیا
شاخِ صلیبِ شام پر جس نے کہا خدا مجھے
جانا جہاں تھا اس طرف اپنی ازل سے پیٹھ ہے
چلنا ابد تلک پڑا یوں ہی بے فائدہ مجھے
کتنے ہزار سال سے تجھ کو منا رہا ہوں میں
میرے قریب بیٹھ کر تُو بھی کبھی منا مجھے
مجھ سے ترا فروغ کن مجھ سے ہے گردشِ فلک
میرا مقام و مرتبہ، پستی نہیں ، اٹھا مجھے
میرے علاوہ اور بھی کچھ ہے ترے خیال میں
میرے مزاج آشنا! تجھ سے یہی گلہ مجھے
ٹوٹ کے شاخِ سبز سے دشت ستم خرام میں
لکھنا ہے گرم ریت پر پھولوں کا مرثیہ مجھے
میں نے کہا کہ آنکھ میں دھند بھری ہے رنگ کی
اس کے مہیں لباس پر کرنا تھا تبصرہ مجھے
خیمۂ کائنات کی ٹوٹی ہوئی طناب کو
حرف صدائے کن بتا، کیسے ہے تھامنا مجھے
اس کی طلب کے حکم پر رہنا جہاں پڑا مجھے
لوگ برے برے لگے شہر خراب سا مجھے
میرا طلسم جسم بس میرے محاصرے میں ہے
اپنے نواحِ ذات میں کھینچ دیا گیا مجھے
ایک کرن شعور کی، ایک بہار نور کی
اپنے چراغِ طور کی بخش کوئی چتا مجھے
مجھ سے بڑا کوئی نہیں ‘ رات کے اک چراغ نے
کھنچی ہوئی لکیر میں رہ کے یہی کہا مجھے
آمدِ یار کے لیے جمع چراغِ چشم ہیں
کھینچنا ہے گلی گلی نور کا حاشیہ مجھے
پاؤں میں ہے غبارِ رہ، آنکھ میں منظرِ سیہ
دل ہے مرا طلب کدہ کوئی دیا دکھا مجھے
اس کے وجودِ سنگ میں دل ہی نہیں رکھا گیا
پھر بھی گماں یہی کہ ہے دل پہ لکھا ہوا مجھے
کوئی نہیں بتا سکا کیسے جیوں ترے بغیر
دیتا تمام شہر ہے، جینے کا مشورہ مجھے
رستہ تھا روشنی بکف، گھر تھا چمن بنا ہوا
تیرے مگر فراق کے دکھ نے جگا دیا مجھے
میرا وہاں ہے آسماں تیری جہاں ہیں پستیاں
میرے بدن پہ پاؤں رکھ، قوس قزح بنا مجھے
کہتی ہے داستانِ نور، آ کے سیہ لباس میں
مرتے ہوئے دیار کی بجھتی ہوئی چتا مجھے
سنگ صفت دیار کی شام سیہ نصیب میں
چھوٹے سے اس مکان کا کتنا ہے آسرا مجھے
مستی سے بھر، ترنگ دے، دل کو کوئی امنگ دے
اپنے بدن کا رنگ دے، خود سے ذرا ملا مجھے
منصور آفاق

بمباری نے کرنوں بھری تاریخ بجھا دی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 450
آثارِ قدیمہ ، مری تہذیب مٹا دی
بمباری نے کرنوں بھری تاریخ بجھا دی
وہ بھی تو درِ کعبہ پہ سجاآتے تھے نظمیں
میں نے بھی اباسین میں اک نظم بہادی
جو علم کے معروف سمندر ہیں انہوں نے
اک آگ کتب خانۂ دجلہ میں لگادی
اطلاع کی کوئی بیل نہ بجی خانۂ دل میں
اخبار بھی کرتے رہے تصویری منادی
یہ ڈیڑھ ارب بھوک زدہ آدمی کیوں ہیں
کچھ بول چناروں بھری کشمیر کی وادی
پھر رات کی چادر پہ ابھر آئے ستارے
پھر روشنی منصور اندھیرے میں ملادی
منصور آفاق

گمشدہ بستیوں کے خا کے کھینچ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 249
نقشے کچھ قریۂ سما کے کھینچ
گمشدہ بستیوں کے خا کے کھینچ
تیری آنکھوں میں کیا تناسب ہے
میرے فوٹو گراف آ کے کھینچ
تیری خوشبو چرا لے آئی ہے
کان اڑتی ہوئی ہوا کے کھینچ
روند دے پاؤں میں کفن کی رات
چیتھڑے دامنِ فنا کے کھینچ
اچھی کرلی ہے خاک کی تقسیم
اب فلک پر لکیریں جا کے کھینچ
دیکھ کھڑکی میں آ گیا ہے چاند
ہاتھ اپنا ذرا بڑھا کے کھینچ
دن کو پکڑا تو ہے کنارے سے
زور پورا مگر لگا کے کھینچ
بند کر دے یہ کیمرہ منصور
اس کا فوٹو اسے بتا کے کھینچ
منصور آفاق

پڑھتی ہے جن کو چوم کے بادِ صبا نماز

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 181
مٹی مرا وجود، زمیں میری جا نماز
پڑھتی ہے جن کو چوم کے بادِ صبا نماز
اک دلنواز شخص نے دیکھا مجھے تو میں
قوسِ قزح پہ عصر کی پڑھنے لگا نماز
پڑھتے ہیں سر پہ دھوپ کی دستار باندھ کر
سایہ بچھا کے اپنا ہم اہلِ صفا نماز
لات و منات اپنے بغل میں لیے ہوئے
کعبہ کی سمت پڑھتی ہے خلقِ خدا نماز
تیرا ہے کوئی اور تعین مرا میں آپ
تیری جدا نماز ہے میری جدا نماز
جانے کب آئے پھر یہ پلٹ کر شبِ وصال
ہو جائے گی ادا تو عشاء کی قضا نماز
میں نے کہا کہ صبح ہے اب تو افق کے پاس
اس نے کہا تو کیجیے اٹھ کر ادا نماز
مت پوچھ کیسی خواہشِ دیدار تھی مجھے
برسوں میں کوہِ طور پہ پڑھتا رہا نماز
قرباں خیالِ گنبدِ خضرا پہ ہیں سجود
اقرا مری دعا ، مری غارِ حرا نماز
اس مختصر قیام میں کافی یہی مجھے
میرا مکاں درود ہے میرا دیا نماز
پندارِ جاں میں آئی ہیں تجھ سے ملاحتیں
تجھ سے ہوئے دراز یہ دستِ دعا نماز
اے خواجہء فراق ! ملاقات کے لیے
پھر پڑھ کنارِ چشمۂ حمد و ثنا نماز
اے شیخ شاہِ وقت کے دربار سے نکل
دروازہ کر رہی ہے بغاوت کا وا نماز
اس کا خیال مجھ سے قضا ہی نہیں ہوا
لگتا ہے میرے واسطے منصور تھا نماز
منصور آفاق

ہے لاج تمہیں اے ابرِ کرم دو بوندیں تو برسا جانا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 44
کچھ پھول کھلانا خوشبو کے، کچھ نورکے رنگ گرا جانا
ہے لاج تمہیں اے ابرِ کرم دو بوندیں تو برسا جانا
باطل کی یہ وحشت سامانی مرعوب کرے حق بازوں کو
یہ رسم نہیں پروانوں کی یوں شعلوں سے گھبرا جانا
منجدھار ہے اور طوفانِ بلا،ساحل کا تصور ڈوب چلا
بس آس تمہاری ہے آقا اب نیا پار لگا جانا
ہر بے بس کی فریاد رسی ہر بے کس دل کی چارہ گری
تائیدِ محمد صل علیٰ وہ ریت ذرا دھرا جانا
مقصود نہیں ہے عیش و طرب ہلکا سا تموج کافی ہے
ہے شوق یہی دیوانوں کو کچھ پی کے ذرا لہرا جانا
جب شہرِ مدنیہ آجائے جب گنبدِ خضرا سامنے ہو
اے خوابِ تخیل رک جانا اے چشمِ طلب پتھرا جانا
منصور مدنیہ کے سپنے پلکوں پہ اٹھائے پھرتا ہے
خوشبو کی طرح اے بادصبا ہر سمت اسے بکھرا جانا
منصور آفاق

جس گھر سے سر اٹھایا اس کو بٹھا کے چھوڑا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 3
اے عشق تو نے اکثر قوموں کو کھا کے چھوڑا
جس گھر سے سر اٹھایا اس کو بٹھا کے چھوڑا
رایوں کے راج چھینے شاہونکے تاج چھینے
گردن کشوں کو اکثر نیچا دکھا کے چھوڑا
فرہاد کوہکن کی لی تو نے جان شیریں
اور قیس عامری کو مجنوں بنا کے چھوڑا
یعقوب سے بشر کو دی تو نے ناصبوری
یوسف سے پارسا پر بہتان لگا کے چھوڑا
عقل و خرد نے تجھ سے کچھ چپقلش جہاں کی
عقل و خرد کا تو نے خاکہ اڑا کے چھوڑا
افسانہ تیرا رنگین، روداد تیری دلکش
شعر و سخن کا تو نے جادو بنا کے چھوڑا
اک دسترس سے تیری حالیؔ بچا ہوا تھا
اس کے بھی دل پہ آخر چرکا لگا کے چھوڑا
الطاف حسین حالی

عظمت عشق بڑھا دی ہم نے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 219
رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے
عظمت عشق بڑھا دی ہم نے
جب کوئی تازہ شگوفہ پھوٹا
کی گلستاں میں منادی ہم نے
آنچ صیاد کے گھر تک پہنچی
اتنی شعلوں کو ہوا دی ہم نے
جب چمن میں نہ کہیں چین ملا
در زنداں پہ صدا دی ہم نے
دل کو آنے لگا بسنے کا خیال
آگ جب گھر کو لگا دی ہم نے
اس قدر تلخ تھی روداد حیات
یاد آتے ہی بھلا دی ہم نے
حال جب پوچھا کسی نے باقیؔ
اک غزل اپنی سنا دی ہم نے
باقی صدیقی

کس سے ہم آس لگا بیٹھے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 130
راہ میں شمع جلا بیٹھے ہیں
کس سے ہم آس لگا بیٹھے ہیں
رنگ محفل سے ہمیں کیا مطلب
جانے کیا سوچ کے آ بیٹھے ہیں
ختم ہوتی نہیں دل کی باتیں
اپنا قصہ تو سنا بیٹھے ہیں
کون سنتا ہے کسی کی آواز
ہم ابھی کر کے صدا بیٹھے ہیں
مسکرایا ہے زمانہ کیا کیا
کھا کے جب تیر وفا بیٹھے ہیں
خود کو دیکھا تو نہ پہچان سکے
ہم بھی کیا حال بنا بیٹھے ہیں
ابھی کچھ ملتے ہیں منزل کے سراغ
ابھی کچھ آبلہ پا بیٹھے ہیں
منزلوں رہ گئے پیچھے باقیؔ
وہ گھڑی راہ میں کیا بیٹھے ہیں
باقی صدیقی

تصویر میری مجھ کو دکھا کر چلا گیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 72
اک آئینہ نظر میں سما کر چلا گیا
تصویر میری مجھ کو دکھا کر چلا گیا
ہم دیکھ کر جہاں کو ہراساں ہیں اس طرح
یک لخت جیسے کوئی جگا کر چلا گیا
دیوانہ اپنے آپ سے تھا بے خبر تو کیا
کانٹوں میں ایک راہ بنا کر چلا گیا
دل پر کھلا نہ تھا کبھی یہ تشنگی کا روپ
وہ میرا زہر مجھ کو پلا کر چلا گیا
رات اپنے سائے سائے میں چھپتا رہا ہوں میں
اتنے چراغ کوئی جلا کر چلا گیا
اس طرح چونک چونک اٹھا ہوں خیال میں
جیسے ابھی ابھی کوئی آ کر چلا گیا
اک پھول اتنے رنگ نہ لایا تھا اپنے ساتھ
راہوں میں جتنے خار بچھا کر چلا گیا
باقیؔ ابھی یہ کون تھا موج صبا کے ساتھ
صحرا میں اک درخت لگا کر چلا گیا
باقی صدیقی