ٹیگ کے محفوظات: قبائل

مرتے ہوئے لوگوں کومسائل سے نکالو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 228
تہذیب کو فرسودہ دلائل سے نکالو
مرتے ہوئے لوگوں کومسائل سے نکالو
تم ملک خدا داد کا لوٹا ہوا گلشن
اب زردمعیشت کے خصائل سے نکالو
خیرات پہ جینا توکوئی جینا نہیں ہے
اک تازہ سحر اپنے وسائل سے نکالو
قانون کو نافذ کرو ہر ایک گلی پر
تم قاتلوں کو اپنے قبائل سے نکالو
منصور لٹیروں کو سرِعام دو پھانسی
اب دیس کرپشن کی شمائل سے نکالو
منصور آفاق