ٹیگ کے محفوظات: فغفور

ٹک نظر ایدھر نہیں کہہ اس سے ہے منظور کیا

دیوان دوم غزل 694
اس قدر آنکھیں چھپاتا ہے تو اے مغرور کیا
ٹک نظر ایدھر نہیں کہہ اس سے ہے منظور کیا
وصل و ہجراں سے نہیں ہے عشق میں کچھ گفتگو
لاگ دل کی چاہیے ہے یاں قریب و دور کیا
ہو خرابی اور آبادی کی عاقل کو تمیز
ہم دوانے ہیں ہمیں ویران کیا معمور کیا
اٹھ نہیں سکتا ترے در سے شکایت کیا مری
حال میں اپنے ہوں عاجز میں مجھے مقدور کیا
سب ہیں یکساں جب فنا یک بارگی طاری ہوئی
ٹھیکرا اس مرتبے میں کیا سر فغفور کیا
لطف کے حرف و سخن پہلے جو تھے بہر فریب
مدتیں جاتی ہیں ان باتوں کا اب مذکور کیا
دیکھ بہتی آنکھ میری ہنس کے بولا کل وہ شوخ
بہ نہیں اب تک ہوا منھ کا ترے ناسور کیا
میں تو دیکھوں ہوں تمھارے منھ کو تم نے دل لیا
تم مجھے رہتے ہو اکثر مجلسوں میں گھور کیا
ابر سا روتا جو میں نکلا تو بولا طنز سے
آرسی جا دیکھ گھر برسے ہے منھ پر نور کیا
سنگ بالیں میر کا جو باٹ کا روڑا ہوا
سخت کر جی کو گیا اس جا سے وہ رنجور کیا
میر تقی میر

شور سا ہے تو ولیکن دور کا

دیوان دوم غزل 682
غم ابھی کیا محشر مشہور کا
شور سا ہے تو ولیکن دور کا
حق تو سب کچھ ہی ہے تو ناحق نہ بول
بات کہتے سر کٹا منصور کا
بیچ سے کب کا گیا اب ذکر کیا
اس دل مرحوم کا مغفور کا
طرفہ آتش خیز سنگستاں ہے دل
مقتبس یاں سے ہے شعلہ طور کا
مر گئے پر خاک ہے سب کبر و ناز
مت جھکو سر گو کسو مغرور کا
ٹھیکری کو قدر ہے اس کو نہیں
ٹوٹے جب کاسہ سر فغفور کا
ہو کھڑا وہ تو پری سی ہے کھڑی
منھ کھلے تو جیسے چہرہ حور کا
دیکھ اسے کیونکر ملک بھیچک نہ ہوں
آنکھ کے آگے یہ بکّا نور کا
چشم بہنے سے کبھو رہتی نہیں
کچھ علاج اے میر اس ناسور کا
میر تقی میر