ٹیگ کے محفوظات: شمع

کیا کہوں میں بس میاں ، افسوس میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 107
ہوں میں یکسر رایگاں ، افسوس میں
کیا کہوں میں بس میاں ، افسوس میں
اب عبث کا کارواں ہے گرم سیر
میں ہوں میرِ کارواں ، افسوس میں
کیسے پہنچوں آخر اپنے آپ تک
میں ہوں اپنے درمیاں ، افسوس میں
شعلہء یاقوت فامِ زخمِ دل
میں ہوں کتنا تیرہ جاں ، افسوس میں
یاد اُس لب کی عطش انگیز ہے
ہوں میں دوزخ درمیاں ، ، افسوس میں
بازوانِ مرمرینِ ۔۔ آرزو
وائے ہجرِ جاداں ، افسوس میں
سبزہ زارِ خوابِ لالہ فام میں
کس قدر ہوں میں تپاں ، افسوس میں
پرتوِ سمیینِ مہتابِ گماں
گم ہوئی شمعِ ، افسوس میں
مجھ کو ہے درپیش اپنے سے فراق
میں کہاں اور میں کہاں ، افسوس میں
دل میں نالہ توڑنا ہے جس کا فن
میں ہوں وہ آوازہ خواں ، افسوس میں
میں ہوں گوشہ گیرِ گردِ صد ملال
اے غبارِ کارواں ، افسوس میں
میرے ہی دل پر لگا ہے جس کا تیر
ہے وہ میری ہی کماں افسوس میں
جون ایلیا

وہ سراپا دیکھ کر پردے میں جل جاتی ہے شمع

دیوان پنجم غزل 1647
آتی ہے مجلس میں تو فانوس میں آتی ہے شمع
وہ سراپا دیکھ کر پردے میں جل جاتی ہے شمع
میر تقی میر

تلووں تک وہ داغ گیا ہے سب مجھ کو کھا جیسے شمع

دیوان چہارم غزل 1411
ایک ہی گل کا صرف کیا ہے میں نے سراپا جیسے شمع
تلووں تک وہ داغ گیا ہے سب مجھ کو کھا جیسے شمع
میر تقی میر

پانی پانی شرم مفرط سے ہوئی جاتی ہے شمع

دیوان سوم غزل 1153
آگے جب اس آتشیں رخسار کے آتی ہے شمع
پانی پانی شرم مفرط سے ہوئی جاتی ہے شمع
میر تقی میر

واہ وا رے آتش جاں سوز پھر تاثیر شمع

دیوان اول غزل 246
یوں جلا ڈالا کہ کچھ روشن نہ ہوئی تقریر شمع
واہ وا رے آتش جاں سوز پھر تاثیر شمع
میر تقی میر

اس بھبھوکے سے کو بیٹھا دیکھ جل جاتی ہے شمع

دیوان اول غزل 245
سب پہ روشن ہے کہ شب مجلس میں جب آتی ہے شمع
اس بھبھوکے سے کو بیٹھا دیکھ جل جاتی ہے شمع
میر تقی میر