ٹیگ کے محفوظات: شرماتے

آنکھیں مندیں اب جاچکے ہم وے دیکھو تو آتے ہیں ہنوز

دیوان پنجم غزل 1626
کب سے آنے کہتے ہیں تشریف نہیں لاتے ہیں ہنوز
آنکھیں مندیں اب جاچکے ہم وے دیکھو تو آتے ہیں ہنوز
کہتا ہے برسوں سے ہمیں تم دور ہو یاں سے دفع بھی ہو
شوق و سماجت سیر کرو ہم پاس اس کے جاتے ہیں ہنوز
راتوں پاس گلے لگ سوئے ننگے ہوکر ہے یہ عجب
دن کو بے پردہ نہیں ملتے ہم سے شرماتے ہیں ہنوز
ساتھ کے پڑھنے والے فارغ تحصیل علمی سے ہوئے
جہل سے مکتب کے لڑکوں میں ہم دل بہلاتے ہیں ہنوز
گل صد رنگ چمن میں آئے بادخزاں سے بکھر بھی گئے
عشق و جنوں کی بہار کے عاشق میر جی گل کھاتے ہیں ہنوز
میر تقی میر

آتے ہو تمکین سے ایسے جیسے کہیں کو جاتے ہو

دیوان چہارم غزل 1474
ناز کی کوئی یہ بھی ٹھسک ہے جی کاہے کو کڑھاتے ہو
آتے ہو تمکین سے ایسے جیسے کہیں کو جاتے ہو
غیر کی ہمراہی کی عزت جی مارے ہے عاشق کا
پاس کبھو جو آتے ہو تو ساتھ اک تحفہ لاتے ہو
مست نہیں پر بال ہیں بکھرے پیچ گلے میں پگڑی کے
ساختہ ایسے بگڑے رہو ہو تم جیسے مدھ ماتے ہو
پردہ ہم سے کر لیتے ہو جب آتے ہو مجلس میں
آنکھیں سب سے ملاتے ہو کچھ ہم ہی سے شرماتے ہو
سوچ نہیں یہ فقیر ہے اپنا جیب دریدہ دیوانہ
ٹھوکر لگتے دامن کو کس ناز سے تم یاں آتے ہو
رفتۂ عشق کسو کا یارو راہ چلے ہے کس کے کہے
کون رہا ہے آپ میں یاں تم کس کے تئیں سمجھاتے ہو
صبر بلا پر کرتے صاحب بیتابی کا حاصل کیا
کوئی مقلب قلبوں کا ہے میر عبث گھبراتے ہو
میر تقی میر

ناصح قوم اس پہ کہلاتے ہیں آپ

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 39
یہ ہیں واعظ، سب پہ منہ آتے ہیں آپ
ناصح قوم اس پہ کہلاتے ہیں آپ
بس بہت طعن و ملامت کر چکے
کیوں زباں رندوں کی کھلواتے ہیں آپ
ہے صراحی میں وہی لذت کہ جو
چڑھ کے ممبر پر مزا پاتے ہیں آپ
واعظو ہے ان کو شرمانا گناہ
جو گنہ سے اپنے شرماتے ہیں آپ
کرتے ہیں اک اک کی تکفیر آپ کیوں
ا س پہ بھی کچھ غور فرماتے ہیں آپ
چھیڑ کر واعظ کو حالیؔ خلد سے
بسترا کیوں اپنا پھکواتے ہیں آپ
الطاف حسین حالی