یہ کیا دیکھتا ہوں
کھڑا سوچتا ہوں
اس اک لمحے کے چوکھٹے میں یہ منظر
اتارا ہے کس نے؟
چنارِ شرر برگ کی ایک ٹہنی
کس جابرِ برف پیکر کے پھیلے ہوئے منجمد بازوؤں سے
نکل کر۔۔۔ پھسل کر۔۔۔
فرازِ فضا میں، بڑی خود فروزی سے، لہرا رہی ہے
نجانے اسے ماگھ رُت کے سہانے سمے میں سموئے ہوئے نیلگوں آسماں سے
پکارا ہے کس نے؟
Richard Aldrige کی نظم کا ترجمہ
مجید امجد