ٹیگ کے محفوظات: سوکھا پتا

سوکھا پتا

ہریالی کی قید میں اکثر

یوں لگتا ہے

میں بھی سوکھا پتا ہوتا

ہوا کی ہلکی سی تھپکی پر

زنداں کا دروازہ کھلتا

دھوپ کے اُجلے منظر

میرا تن سہلاتے

رنگ مہکتی ، کچی مٹی کا میری بھی

روح میں گُھلتا

ہوا کی مدھم لہروں پر

ہلکورے لیتا بہتا جاتا

سوکھی چٹخی آنکھیں کوئی

خواب نہ بُنتیں

مُرجھانے کا، جھڑ جانے کا

دل میں کوئی خوف نہ ہوتا

ننھی ننھی جگمگ آنکھیں،

مڑی مڑی سی پلکیں

چھوٹے چھوٹے پاؤں

حیرانی سے بڑھتے میری جانب

اور میں بہتا جاتا

آتے جاتے قدموں کی

آوازیں سنتا

قدموں کی آوازیں

جیسے دَھڑ دَھڑ کوئی

دھرتی کُوٹے

اور پھر وہ آوازیں

جن میں سُر گاتے ہوں

یا کچھ جھجکی ، گرتی پڑتی ،

مدھم چاپیں

دن بھر جاگتی گلیوں میں

یوں خاک اُڑاتا

رات گئے پھر سُونی، ویراں

سڑکوں پر آوارہ پھرتا

اور پیڑوں کی اوٹ میں

ملنے والوں کی سرگوشی سنتا

ہریالی کی قید میں اکثر

یوں لگتا ہے

آزادی کا اِک دن

ساری عمر کی قید سے

اچھا ہوتا

میں بھی سوکھا پتا ہوتا …

گلناز کوثر