ٹیگ کے محفوظات: سجاؤ

سمن کدوں کو سجاؤ بہار آئی ہے

بساطِ رنگ بچھاؤ بہار آئی ہے
سمن کدوں کو سجاؤ بہار آئی ہے
صبا کے ہاتھ ملا ہے پیامِ بیداری
کلی کلی کو جگاؤ بہار آئی ہے
سَحر کا رنگ، ستاروں کا نُور پگھلا کر
رُخِ چمن پہ بہاؤ بہار آئی ہے
نگارِ باغ کی دوشیزگی نکھر جائے
کلی کو پُھول بناؤ بہار آئی ہے
فضا کی تشنہ لَبی پر مٹھاس بکھرا دو
رسیلے گیت سناؤ بہار آئی ہے
کوئی خوشی کا فسانہ کوئی ہنسی کی بات
لَبوں سے پھول گراؤ بہار آئی ہے
نظر کے ساتھ شفق رنگ، مے کا دَور چلے
فضا کو مست بناؤ بہار آئی ہے
غمِ خزاں کا چمن میں کوئی نشاں نہ ملے
اک ایسا جشن مناؤ بہار آئی ہے
یہیں پہ جنتِ قلب و نظر کی ہو تشکیل
یہیں پہ خُلد بساؤ بہار آئی ہے
شکیب جلالی

رگوں میں مچلتی تمازت کبھی تو زباں پر بھی لاؤ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
لبوں کے اُفق پر دمکتا ہُوا کوئی سورج اُگاؤ
رگوں میں مچلتی تمازت کبھی تو زباں پر بھی لاؤ
ہواؤں میں اپنی مہک کب تلک یوں بکھرنے نہ دو گے
حجاب اِس طرح کے ہیں جتنے بھی وہ درمیاں سے اُٹھاؤ
تمہیں کتنی حسرت سے کہتی ہے میری یہ تشنہ سماعت
بھنچے ہیں جو لب تو نگاہوں سے ہی کوئی نغمہ سناؤ
وہی جو گرہ ہے تمہارے مرے عہدِ وابستگی کی
وہ انگشتری بھی کبھی وقت کی انگلیوں میں سجاؤ
یہ تنہا روی ترک کر دو کہ اِس میں فقط ٹھوکریں ہیں
مکّرر جسے جسم چاہے کوئی ضرب ایسی بھی کھاؤ
بُلاتی ہے خود ابر کو دیکھ لو اپنی جانب یہ کھیتی
تمہارا بدن کہہ رہا ہے ’’لُہو میں مرے سر سراؤ‘‘
بُہت سینچ بیٹھے ہو ماجدؔغزل کو نمِ دردِ جاں سے
اگر ہو سکے تو ذرا اِس میں من کے تقاضے بھی لاؤ
ماجد صدیقی

کوئی ہنر، کوئی داؤ کہ سادہ دِل ہوں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
کوئی فریب سکھاؤ کہ سادہ دِل ہوں میں
کوئی ہنر، کوئی داؤ کہ سادہ دِل ہوں میں
یہ تہمتیں تو مرے روگ کا علاج نہیں
مجھے نہ مجھ سے ڈراؤ کہ سادہ دل ہوں میں
تمہیں بھی لوگ کھلونا سمجھ نہ لیں آخر
مرے قریب نہ آؤ کہ سادہ دل ہوں میں
تمہاری آنکھ بھی بنجر نہ ہو کے رہ جائے
نظر نہ مجھ سے ملاؤ کہ سادہ دل ہوں میں
ملاہے اوج اگر باتمام عجز تمہیں
یہ گُر مجھے بھی سکھاؤ کہ سادہ دل ہوں میں
نہ اشکِ خون‘ نہ ہوں لعلِ ناب ہی ماجدؔ
کہیں تو مجھ کو سجاؤ کہ سادہ دل ہوں میں
ماجد صدیقی