ٹیگ کے محفوظات: رہگیر

اے موجۂ ہوا، تہہِ زنجیر کون ہیں

مجید امجد ۔ غزل نمبر 10
اک شوقِ بےاماں کے یہ نخچیر کون ہیں
اے موجۂ ہوا، تہہِ زنجیر کون ہیں
دیوارِ دل کے ساتھ بہ پیکانِ غم گڑے
آ دیکھ یہ ترے ہدفِ تیر کون ہیں
یہ بدلیوں کا شور، یہ گھنگھور قربتیں
بارش میں بھیگتے یہ دو رہگیر کون ہیں
ان ریزہ ریزہ آئنوں کے روپ میں بتا
صدیوں کے طاق پر، فلکِ پیر، کون ہیں
جن کی پلک پلک پہ ترے بام و در کے دیپ
پہچان تو سہی کہ یہ دلگیر کون ہیں
امجد، دیارِ لعل و گہر میں کسے خبر
وہ جن کی خاکِ پا بھی ہے اکسیر، کون ہیں
مجید امجد

ہاتھ میں جام پاؤں میں زنجیر

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 9
کس نے کھینچی حیات کی تصویر
ہاتھ میں جام پاؤں میں زنجیر
بات کرتا ہے ہنس کے جب صیاد
بھول جاتے ہیں اپنی بات اسیر
ہائے یہ راستے کے ہنگامے
اک تماشا سا بن گئے رہگیر
دیکھنا طرز پرسش احوال
بات کی بات اور تیر کا تیر
اتنے باریک تھے نقوش حیات
بنتے بنتے بگڑ گئی تصویر
وہ زمانے کی چال تھی باقیؔ
ہم سمجھتے رہے جسے تقدیر
باقی صدیقی