ٹیگ کے محفوظات: دیواری

کیا ہوئی تقصیر اس کی نازبرداری کے بیچ

دیوان چہارم غزل 1372
رنج کیا کیا ہم نے کھینچے دوستی یاری کے بیچ
کیا ہوئی تقصیر اس کی نازبرداری کے بیچ
دوش و آغوش و گریباں دامن گلچیں ہوئے
گل فشانی کر رہی ہے چشم خونباری کے بیچ
ایک کو اندیشۂ کار ایک کو ہے فکر یار
لگ رہے ہیں لوگ سب چلنے کی تیاری کے بیچ
منتظر تو رہتے رہتے پھر گئیں آنکھیں ندان
وہ نہ آیا دیکھنے ہم کو تو بیماری کے بیچ
جان کو قید عناصر سے نہیں ہے وارہی
تنگ آئے ہیں بہت اس چار دیواری کے بیچ
روتے ہی گذری ہمیں تو شب نشینی باغ کی
اوس سی پڑتی رہی ہے رات ہر کیاری کے بیچ
یاد پڑتا ہے جوانی تھی کہ آئی رفتگی
ہو گیا ہوں میں تو مست عشق ہشیاری کے بیچ
ایک ہوویں جو زبان و دل تو کچھ نکلے بھی کام
یوں اثر اے میر کیا ہو گریہ و زاری کے بیچ
میر تقی میر

لے گئی ہے اِک سڑک کی تیز رفتاری اسے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 547
تھی کہاں اپنے میانوالی سے بیزاری اسے
لے گئی ہے اِک سڑک کی تیز رفتاری اسے
نہر کے پل پر ٹھہر جا اور تھوڑی دیر، رات
روک سکتی ہے کہاں اِک چار دیواری اسے
کوئی پہلے بھی یہاں پر لاش ہے لٹکی ہوئی
کہہ رہی ہے دل کے تہہ خانے کی الماری اسے
پوچھتی پھرتی ہے قیمت رات سے مہتاب کی
تازہ تازہ ہے ابھی شوقِ خریداری اسے
جو طلسم حرف میں اترا ہے اسمِ نعت سے
قریہء شعر و سخن کی بخش سرداری اسے
منصور آفاق