ٹیگ کے محفوظات: دکھائیں

آؤ کہ جسم و جاں کے شگوفے کھلائیں ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
نِکھری رُتوں کا حسن‘ فضا سے چرائیں ہم
آؤ کہ جسم و جاں کے شگوفے کھلائیں ہم
بیدار جس سے خُفتہ لُہو ہو ترنگ میں
ایسا بھی کوئی گیت کبھی گنگنائیں ہم
رچتی ہے جیسے پھوُل کی خوشبُو ہواؤں میں
اِک دُوسرے میں یُوں بھی کبھی تو دَر آئیں ہم
اِخفا سہی پہ کچھ تو سپُردِ قلم بھی ہو
دیکھا ہے آنکھ سے جو سبھی کو دکھائیں ہم
ہو تُجھ سا مدّعائے نظر سامنے تو پھر
ساحل پہ کشتیوں کو نہ کیونکر جلائیں ہم
منصف ہے گر تو دل سے طلب کر یہ فیصلہ
تُجھ سے بچھڑ کے کون سے زنداں میں جائیں ہم
ایسا نہ ہو کہ پھر کبھی فرصت نہ مل سکے
ماجدؔ چلو کہ فصلِ تمّنا اٹھائیں ہم
ماجد صدیقی

ہمیں بھی چھیڑ کے دیکھیں تو یہ ہوائیں کبھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
مہک اُٹھیں یہ فضائیں جو لب ہلائیں کبھی
ہمیں بھی چھیڑ کے دیکھیں تو یہ ہوائیں کبھی
یہ اِن لبوں ہی تلک ہے ابھی ضیا جن کی
بنیں گی نُور کے سوتے یہی صدائیں کبھی
وُہ خوب ہے پہ اُسے اِک ہمیں نے ڈھونڈا ہے
جو ہو سکے تو ہم اپنی بھی لیں بلائیں کبھی
کبھی تو موت کا یہ ذائقہ بھی چکھ دیکھیں
وہ جس میں جان ہے اُس سے بچھڑ بھی جائیں کبھی
وہ حُسن جس پہ حسیناؤں کو بھی رشک آئے
اُسے بھی صفحۂ قرطاس پر تو لائیں کبھی
وہی کہ جس سے تکلّم کو ناز ہے ہم پر
وہ رنگ بھی تو زمانے کو ہم دکھائیں کبھی
ہمِیں پہ ختم ہے افسردگی بھی، پر ماجدؔ
کھلائیں پھول چمن میں جو مسکرائیں کبھی
ماجد صدیقی

خدا نُہ نہ دے ان کو جو سر کھجائیں

دیوان سوم غزل 1209
نچیں جبہے عاشق اگر دست پائیں
خدا نُہ نہ دے ان کو جو سر کھجائیں
جھمکنے لگا خوں تو جاے سرشک
ابھی دیکھیں آنکھیں ہمیں کیا دکھائیں
رہیں کس کو سانسے کہ اب ضعف سے
مرا جی ہی کرنے لگا سائیں سائیں
خدا ساز تھا آزر بت تراش
ہم اپنے تئیں آدمی تو بنائیں
چلا یار کی اور جاتا ہے جی
جو ہو اختیاری تو اودھر نہ جائیں
جگر سوز ہیں اس کے لعل خموش
طلب کریے بوسہ تو باتیں بنائیں
ہمیں بے نیازی نے بٹھلا دیا
کہاں اتنی طاقت کہ منت اٹھائیں
کہیں دیکھے وہ بید مجنوں کہ ہم
فراموش کار اپنے کو تا دکھائیں
کہیں میر عشق مجازی ہے بد
حقیقت ہو معلوم گر دل لگائیں
میر تقی میر