ٹیگ کے محفوظات: دوش

یاں کون تھوکے ہے صدف ہرزہ کوش پر

دیوان سوم غزل 1138
دعویٰ ہے یوں ہی اس کا ترے حسن گوش پر
یاں کون تھوکے ہے صدف ہرزہ کوش پر
شاید کسو میں اس میں بہت ہو گیا ہے بعد
تم بھی تو گوش رکھو جرس کے خروش پر
جیب و کنار سے تو بڑھا پانی دیکھیے
چشمہ ہماری چشم کا رہتا ہے جوش پر
اک شور ہے جو عالم کون و فساد میں
ہنگامہ ہے اسی کے یہ لعل خموش پر
ہے بار دوش جس کے لیے زندگی سو وہ
رکھ ہاتھ راہ ٹک نہ چلا میرے دوش پر
جو ہے سو مست بادئہ وہم و خیال ہے
کس کو ہے یاں نگاہ کسو دردنوش پر
مرغ چمن نے کیا حق صحبت ادا کیا
لالا کے گل بکھیرے مرے قبرپوش پر
جب تک بہار رہتی ہے رہتا ہے مست تو
عاشق ہیں میر ہم تو تری عقل و ہوش پر
میر تقی میر

کبھی بس چلا بھی ہے انکارِ خاموش پر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 24
عبث ہے یہ پہرے بٹھانا لب و گوش پر
کبھی بس چلا بھی ہے انکارِ خاموش پر
سفر بھی شعورِ سفر بھی ہے، چلنا تو ہے
وبالِ شب و روز رکھے ہوئے دوش پر
مجھے آن کی آن میں کچھ سے کچھ کر دیا
کسی نے وہ شب خون مارا مرے ہوش پر
یہ خواہش تو تھی ہاں مگر اتنی ہمت نہ تھی
کہ لکھتا زمانے کو میں نوکِ پاپوش پر
مزا چھپ کے پینے میں پہلے سے دُونا ملے
لگا اور پابندیاں مجھ سے مے نوش پر
کبھی تو ہوا تازیانہ لگائے اِسے
کہ دیکھیں سمندر کو آئے ہوئے جوش پر
آفتاب اقبال شمیم

کتنا ناراض تھااُس زود فراموش سے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 346
جس کاپھرہو گیا اک بوسہ ء پُرجوش سے میں
کتنا ناراض تھااُس زود فراموش سے میں
سرد آنکھوں میں فقط موت کی ویرانی تھی
کب تلک بولتااُس چہرئہ خاموش سے میں
چاہتا ہوں کہ اٹھا لوں اے مری زیست گزار
بوجھ بے رحم مسائل کاترے دوش سے میں
کیا کوئی تیرے اندھیروں سے نکل سکتا ہے
پوچھ سکتا تو ہوں اُس چشمِ سیہ پوش سے میں
اک طرف پڑتی رہی منظرِجاناں پہ چمک
اک طرف آتا رہا جاتا رہا ہوش سے میں
رات کھو جاؤں میں لتا کے سریلے پن میں
صبح آغاز کروں نغمہ ء گوگوش سے میں
اُس بلندی پہ کہاں ہاتھ پہنچنا تھا مگر
دیکھتا چاند رہا دیدئہ مے نوش سے میں
کیسی ہوتی ہے کسی دورِسگاں کی وحشت
پوچھنا چاہتا ہوں یہ کسی خرگوش سے میں
یہ روایت ہے مرے عہدِسخن پیشہ کی
کرلوں بس صدرنوازی ذرا پاپوش سے میں
ہر طرف ایک جہنم تھا ستم کا منصور
جب نکالا گیا باہر تری آغوش سے میں
منصور آفاق