ٹیگ کے محفوظات: دمساز

اُڑ جاؤں گا لے کر پَرِ پَروازِ تخیّل

گر قید کروگے مِرا اندازِ تخیّل
اُڑ جاؤں گا لے کر پَرِ پَروازِ تخیّل
قرطاس و قَلَم مجھ سے اگر چھیِن بھی لوگے
گونجے گی جہاں میں مِری آوازِ تخیّل
ہر گوشِ سَماعَت پہ نقوش اِس کے رہیں گے
مقبولِ زمانہ ہے مِرا سازِ تخیّل
تخلیق بھی تخریب بھی تعمیر بھی اِس میں
تفصیل کے اِجمال میں ہے رازِ تخیّل
پابندیٔ افکار نے ذہنوں کو کِیا قتل
دو چار نَفَس باقی ہیں دَمسازِ تخیّل
تُو واقفِ تاریخ ہے اے گردِشِ ایّام
ضامنؔ ہے تغیّر کا یہ آغازِ تخیّل
ضامن جعفری

بلا رہی ہے ابھی تک وہ دلنشیں آواز

بسا ہوا ہے خیالوں میں کوئی پیکرِ ناز
بلا رہی ہے ابھی تک وہ دلنشیں آواز
وہی دنوں میں تپش ہے وہی شبوں میں گداز
مگر یہ کیا کہ مری زندگی میں سوز نہ ساز
نہ چھیڑ اے خلشِ درد بار بار نہ چھیڑ
چھپائے بیٹھا ہوں سینے میں ایک عمر کے راز
بس اب تو ایک ہی دُھن ہے کہ نیند آ جائے
وہ دن کہاں کہ اُٹھائیں شبِ فراق کے ناز
گزر ہی جائے گی اے دوست تیرے ہجر کی رات
کہ تجھ سے بڑھ کے ترا درد ہے مرا دمساز
یہ اور بات کہ دنیا نہ سن سکی ورنہ
سکوتِ اہلِ نظر ہے بجائے خود آواز
یہ بے سبب نہیں شام و سحر کے ہنگامے
اُٹھا رہا ہے کوئی پردہ ہائے راز و نیاز
ترا خیال بھی تیری طرح مکمل ہے
وہی شباب، وہی دلکشی، وہی انداز
شراب و شعر کی دنیا بدل گئی لیکن
وہ آنکھ ڈھونڈ ہی لیتی ہے بیخودی کا جواز
عروج پر ہے مرا درد ان دنوں ناصر
مری غزل میں دھڑکتی ہے وقت کی آواز
ناصر کاظمی

وُہ شوخ مرا دمساز نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
یہ بات کُھلی ہے راز نہیں
وُہ شوخ مرا دمساز نہیں
ہم قُرب پہ اُس کے فخر کریں
حاصل یہ ہمیں اعزاز نہیں
کہتے ہیں یہ دل وہ شیشہ ہے
ٹُوٹے تو کوئی آواز نہیں
بج اُٹّھے بِن مضراب کے جو
یہ جیون ایسا ساز نہیں
جو خوش الحان ہوئے اُن پر
کب زنداں کے در باز نہیں
حق بات ہے یہ گر جان سکیں
کنجشک ہیں ہم شہباز نہیں
ماجدؔ ہیں ہمیں جو غم، اُن کے
یہ اشک بھی اَب غمّاز نہیں
ماجد صدیقی

ہم ہیں واقف قلب دشت انداز سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 204
خار چن لے گا بہار ناز سے
ہم ہیں واقف قلب دشت انداز سے
تیرے قصّوں نے پریشاں کر دیا
ہم نہ تھے مانوس ہر آواز سے
یہ ابھرتے ڈوبتے چہرے تو دیکھ
آشنا سے، غیر سے، دمساز سے
دام گلشن تک تو باقیؔ آ گئی
بات چل کر حسرت پرواز سے
باقی صدیقی