ٹیگ کے محفوظات: حقارت

عاشق زار کو مار رکھے ہے ایک ابرو کی اشارت میں

دیوان سوم غزل 1187
تیغ کی نوبت کب پہنچے ہے اپنے جی کی غارت میں
عاشق زار کو مار رکھے ہے ایک ابرو کی اشارت میں
گذرے گر دل میں ہوکر تو ایک نگاہ ضروری ہے
کچھ کچھ تیرے غم نے لکھا ہے آکر واں کی عمارت میں
سوکھ کے میں تو عشق کے غم میں خس کی مثال حقیر ہوا
وہ تقصیر نہیں کرتا ہے اب تک میری حقارت میں
ایک بگولا ساتھ مجھے بھی تربت قیس پہ لے آیا
کتنے غزال نظر واں آئے تھے مشغول زیارت میں
دل کو آگ اک دم میں دے دی اشک ہوئے چنگاری سے
کیا ہی شریر ہے شوخی برق ملائی ان نے شرارت میں
شیخ جو تھا دیدار بتاں کا منکر ایسا تھا معذور
دل کو بصیرت تھی نہ اس کے بے نوری تھی بصارت میں
خط و کتابت ایک طرف ہے دفتر لکھ لکھ بھیجے میر
کہیے کچھ جو صریر قلم کی کوتاہی ہو سفارت میں
میر تقی میر

ترے لہو کی تڑپتی ہوئی حرارت ہے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 81
وہ شے جو ایک نئے دور کی بشارت ہے
ترے لہو کی تڑپتی ہوئی حرارت ہے
نظامِ کہنہ کے سائے میں عافیت سے نہ بیٹھ
نظامِ کہنہ تو گرتی ہوئی عمارت ہے
وطن چمکتے ہوئے کنکروں کا نام نہیں
یہ تیرے جسم، تری روح سے عبارت ہے
یہ کہہ رہی ہے صدا ٹوٹتے سلاسل کی
کہ زندگی تو فقط اک حسیں جسارت ہے
یہ اک جھلک ہے بدلتے ہوئے زمانوں کی
جبیں جبیں پہ شکن بھی کوئی بجھارت ہے
چمن میں اہلِ چمن کے یہ طور، ارے توبہ
کلی کلی کی ہنسی خندۂ حقارت ہے
دلوں کی جھونپڑیوں میں بھی روشنی اترے
جو یوں نہیں تو یہ سب سیلِ نور اکارت ہے
مجید امجد