ٹیگ کے محفوظات: جاں

سب کہیں گے یہ کہ کیا اک نیم جاں مارا گیا

دیوان اول غزل 76
ہاتھ سے تیرے اگر میں ناتواں مارا گیا
سب کہیں گے یہ کہ کیا اک نیم جاں مارا گیا
اک نگہ سے بیش کچھ نقصاں نہ آیا اس کے تیں
اور میں بے چارہ تو اے مہرباں مارا گیا
وصل و ہجراں یہ جو دو منزل ہیں راہ عشق کی
دل غریب ان میں خدا جانے کہاں مارا گیا
دل نے سر کھینچا دیارعشق میں اے بوالہوس
وہ سراپا آرزو آخر جواں مارا گیا
کب نیاز عشق ناز حسن سے کھینچے ہے ہاتھ
آخر آخر میر سر برآستاں مارا گیا
میر تقی میر

مرغ خوش خواں عزیز کوئی تھا

دیوان اول غزل 59
شب تھا نالاں عزیز کوئی تھا
مرغ خوش خواں عزیز کوئی تھا
تھی تمھارے ستم کی تاب اس تک
صبر جو یاں عزیز کوئی تھا
شب کو اس کا خیال تھا دل میں
گھر میں مہماں عزیز کوئی تھا
چاہ بے جا نہ تھی زلیخا کی
ماہ کنعاں عزیز کوئی تھا
اب تو اس کی گلی میں خوار ہے لیک
میر بے جاں عزیز کوئی تھا
میر تقی میر

القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا

دیوان اول غزل 25
شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا
القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا
گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شاید
خوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا
لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتے
جاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا
دی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کو
یاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا
ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے
پیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا
ان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئی
ہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا
تب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنا
اب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا
فتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہے
وہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا
کم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھو
احوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا
سجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے اس کو
سید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا
ناحق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابر
طاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا
ہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارے
ویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا
جس دن کہ اس کے منھ سے برقع اٹھے گا سنیو
اس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا
ناحق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارے
ہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا
سودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پا
سر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا
سو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہے
اوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بدزباں کا
یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گذری
کیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا
قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کی
گلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا
پوچھو تو میر سے کیا کوئی نظر پڑا ہے
چہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا
میر تقی میر

بیٹھا ہوا ہوں دیر سے آنکھوں میں جاں لئے ہوئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 58
کوئی ضرور آئے گا، اُسکو یہاں لئے ہوئے
بیٹھا ہوا ہوں دیر سے آنکھوں میں جاں لئے ہوئے
رہتا ہے دور سے پرے، حدِّشعور سے پرے
حلقۂ بے محیط میں کون و مکاں لئے ہوئے
اتنے قریب و دور سے اُس کے لبوں کو دیکھنا
لذتیں نارسائی کی زیرِ زباں لئے ہوئے
ہاں میں نہیں ، نہیں میں ہاں ، اُسکی ادائے دلبری
لب پہ غزل کی طرز کا رنگِ بیاں لئے ہوئے
زانوئے شاخ پر کوئی سویا ہوا گلاب سا
گود میں اپنے لال کو بیٹھی ہے ماں لئے ہوئے
دے کے صدا گزر گیا، کوئی گدا گزر گیا
کاسہء گردباد میں رزقِ خزاں لئے ہوئے
آفتاب اقبال شمیم

کوئی ہم جیسا یہاں ہے تو سہی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 53
شب کے پردے میں نہاں ہے تو سہی
کوئی ہم جیسا یہاں ہے تو سہی
ہم اگرچہ پا رہ لپتی ہیں مگر
سر پہ اپنے آسماں ہے تو سہی
ان گنت بدصورتوں کے شہر میں
ایک تو اے جانِ جاں ہے تو سہی
اس نشاطِ صحبت نایاب میں
کچھ طبیعت سرگراں ہے تو سہی
اب دفاعِ نظریہ کیا کیجئے
کل کا حاصل رائیگاں ہے تو سہی
راس امکان و گماں ہے یاس کو
اس سے آگے لامکاں ہے تو سہی
خواب ٹوٹا ہے تو لے آئیں گے اور
ہمتِ یاراں جواں ہے تو سہی
آفتاب اقبال شمیم

اب تو ویرانہ بھی ویراں نہیں کرنے دیتے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 22
بے بسی کا کوئی درماں نہیں کرنے دیتے
اب تو ویرانہ بھی ویراں نہیں کرنے دیتے
دل کو صد لخت کیا سینے کو صد پارہ کیا
اور ہمیں چاک گریباں نہیں کرنے دیتے
ان کو اسلام کے لٹ جانے کا ڈر اتنا ہے
اب وہ کافر کو مسلماں نہیں کرنے دیتے
دل میں وہ آگ فروزاں ہے عدو جس کا بیاں
کوئی مضموں کسی عنواں نہیں کرنے دیتے
جان باقی ہے تو کرنے کو بہت باقی ہے
اب وہ جو کچھ کہ مری جاں نہیں کرنے دیتے
فیض احمد فیض

منتِ‌این و آں تو چھوٹے گی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 17
فکرِ سود و زیاں تو چھوٹے گی
منتِ‌این و آں تو چھوٹے گی
خیر، دوزخ میں مے ملے نہ ملے
شیخ صاحب سے جاں تو چھوٹے گی
قطعہ
فیض احمد فیض

جو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 32
اب وہی حرفِ جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
جو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے
آج تک شیخ کے اکرام میں جو شے تھی حرام
اب وہی دشمنِ دیں ، راحتِ جاں ٹھہری ہے
ہے خبر گرم کہ پھرتا ہے گریزاں ناصح
گفتگو آج سرِ کوئے بتاں ٹھہری ہے
ہے وہی عارضِ لیلیٰ ، وہی شیریں کا دہن
نگہِ شوق گھڑی بھر کو جہاں ٹھہری ہے
وصل کی شب تھی تو کس درجہ سبک گزری تھی
ہجر کی شب ہے تو کیا سخت گراں ٹھہری ہے
بکھری اک بار تو ہاتھ آئی ہے کب موجِ شمیم
دل سے نکلی ہے تو کب لب پہ فغاں ٹھہری ہے
دستِ صیاد بھی عاجز ، ہے کفِ گلچیں بھی
بوئے گل ٹھہری نہ بلبل کی زباں ٹھہری ہے
آتے آتے یونہی دم بھر کو رکی ہو گی بہار
جاتے جاتے یونہی پل بھر کو خزاں ٹھہری ہے
ہم نے جو طرزِ فغاں کی ہے قفس میں ایجاد
فیض گلشن میں وہی طرزِ بیاں ٹھہری ہے
فیض احمد فیض

یہ ایک صبح تو ہے سیرِ بوستاں کے لیے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 179
بچا کے رکھا ہے جس کو غروبِ جاں کے لیے
یہ ایک صبح تو ہے سیرِ بوستاں کے لیے
چلیں کہیں تو سیہ دل زمانوں میں ہوں گی
فراغتیں بھی اس اک صدقِ رائیگاں کے لیے
لکھے ہیں لوحوں پہ جو مردہ لفظ، ان میں جییں
اس اپنی زیست کے اسرار کے بیاں کے لیے
پکارتی رہی ہنسی، بھٹک گئے ریوڑ
نئے گیاہ، نئے چشمۂ رواں کے لیے
سحر کو نکلا ہوں مینہ میں اکیلا کس کے لیے؟
درخت، ابر، ہوا، بوئے ہمرہاں کے لیے
سوادِ نور سے دیکھیں تو تب سراغ ملے
کہ کس مقام کی ظلمت ہے کس جہاں کے لیے
تو روشنی کے ملیدے میں رزق کی خاطر
میں روشنائی کے گودے میں آب و ناں کے لیے
ترس رہے ہیں سدا خشت خشت لمحوں کے دیس
جو میرے دل میں ہے اس شہرِ بےمکاں کے لیے
یہ نین، جلتی لووں، جیتی نیکیوں والے
گھنے بہشتوں کا سایہ ہیں ارضِ جاں کے لیے
ضمیرِ خاک میں خفتہ ہے میرا دل امجد
کہ نیند مجھ کو ملی خوابِ رفتگاں کے لیے
مجید امجد

خامشی آکے سرِ خلوتِ جاں بولتی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 340
زیرِ محراب نہ بالائے مکاں بولتی ہے
خامشی آکے سرِ خلوتِ جاں بولتی ہے
یہ مرا وہم ہے یا مجھ کو بلاتے ہیں وہ لوگ
کان بجتے ہیں کہ موجِ گزراں بولتی ہے
لو سوالِ دہنِ بستہ کا آتا ہے جواب
تیر سرگوشیاں کرتے ہیں کماں بولتی ہے
ایک میں ہوں کہ اس آشوبِ نوا میں چپ ہوں
ورنہ دُنیا مرے زخموں کی زباں بولتی ہے
ہوُ کا عالم ہے گرفتاروں کی آبادی میں
ہم تو سنتے تھے کہ زنجیرِ گراں بولتی ہے
درد کے باب میں تمثال گری ہے خاموش
بن بھی جاتی ہے تو تصویر کہاں بولتی ہے
عرفان صدیقی

کیا سمندر ہے کہ اک موج رواں سے کم ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 327
ساعتِ وصل بھی عمر گزراں سے کم ہے
کیا سمندر ہے کہ اک موج رواں سے کم ہے
ہے بہت کچھ مری تعبیر کی دُنیا تجھ میں
پھر بھی کچھ ہے کہ جو خوابوں کے جہاں سے کم ہے
جان کیا دیجئے اس دولتِ دُنیا کے لیے
ہم فقیروں کو جو اک پارۂ ناں سے کم ہے
وادیِ ہو میں پہنچتا ہوں بیک جستِ خیال
دشتِ افلاک مری وحشتِ جاں سے کم ہے
میں وہ بسمل ہوں کہ بچنا نہیں اچھا جس کا
ویسے خطرہ ہنرِ چارہ گراں سے کم ہے
عرفان صدیقی

سارا منظر مرے خوابوں کے جہاں جیسا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 316
پھول چہروں پہ سویروں کا سماں جیسا ہے
سارا منظر مرے خوابوں کے جہاں جیسا ہے
کیسا موسم ہے کوئی پیاس کا رشتہ بھی نہیں
میں بیاباں ہوں، نہ وہ ابرِ رواں جیسا ہے
تو یہاں تھا تو بہت کچھ تھا اسی شہر کے پاس
اب جو کچھ ہے وہ مرے قریۂ جاں جیسا ہے
جان بچنے پہ یہ شکرانہ ضروری ہے‘ مگر
جانتا ہوں ہنرِ چارہ گراں جیسا ہے
جوئے مہتاب تو میلی نہیں ہوتی‘ شاید
آج کچھ میری ہی آنکھوں میں دھواں جیسا ہے
عرفان صدیقی

مگر اُجالا مرے سوز جاں سے آتا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 306
مرا چراغ تو جانے کہاں سے آتا ہے
مگر اُجالا مرے سوز جاں سے آتا ہے
نشانہ باز کوئی اور ہے عدو کوئی اور
کسی کا تیر کسی کی کماں سے آتا ہے
مجھے کمی نہیں رہتی کبھی محبت کی
یہ میرا رزق ہے اور آسماں سے آتا ہے
وہ دشت شب کا مسافر ہے اس کو کیا معلوم
یہ نور خیمہ گہہ رہزناں سے آتا ہے
عرفان صدیقی

راہ زَن دَرپئے نقدِ دِل و جاں تھے کتنے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 281
شہر میں گلبدناں، سیم تناں تھے کتنے
راہ زَن دَرپئے نقدِ دِل و جاں تھے کتنے
خوُب ہے سلسلۂ شوق، مگر یاد کرو
دوستو! ہم بھی تو شیدائے بتاں تھے کتنے
کچھ نہ سمجھے کہ خموشی مری کیا کہتی ہے
لوگ دلدادۂ الفاظ و بیاں تھے کتنے
تو نے جب آنکھ جھکائی تو یہ محسوس ہوا
دیر سے ہم تری جانب نگراں تھے کتنے
اَب تری گرمئ گفتار سے یاد آتا ہے
ہم نفس! ہم بھی کبھی شعلہ زَباں تھے کتنے
وقت کے ہاتھ میں دیکھا تو کوئی تِیر نہ تھا
رُوح کے جسم پہ زَخموں کے نشاں تھے کتنے
کسی تعبیر نے کھڑکی سے نہ جھانکا، عرفانؔ
شوق کی راہ میں خوابوں کے مکاں تھے کتنے
عرفان صدیقی

انگلیاں ہونٹوں پہ رکھی ہیں زباں کیسے کھلے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 278
پوچھنے والو، مرا راز نہاں کیسے کھلے
انگلیاں ہونٹوں پہ رکھی ہیں زباں کیسے کھلے
ایک بار اور مرے سینے پر رکھ پھول سا ہاتھ
ایک دستک پہ یہ دروازۂ جاں کیسے کھلے
کوئی یاد آئے تو یہ دل کے دریچے وا ہوں
آنے والا ہی نہیں کوئی، مکاں کیسے کھلے
عرفان صدیقی

بیعتِ دست ہاں ضرور، بیعتِ جاں نہیں نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 196
جسم کی رسمیات اور دل کے معاملات اور
بیعتِ دست ہاں ضرور، بیعتِ جاں نہیں نہیں
درد کی کیا بساط ہے جس پہ یہ پیچ و تاب ہو
دیکھ عزیز صبر صبر، دیکھ میاں نہیں نہیں
ہم فقراء کا نام کیا، پھر بھی اگر کہیں لکھو
لوحِ زمیں تلک تو خیر، لوحِ زماں نہیں نہیں
دونوں تباہ ہو گئے، ختم کرو یہ معرکے
اہلِ ستم نہیں نہیں، دل زدگاں نہیں نہیں
گرمئ شوق کا صلہ دشت کی سلطنت غلط
چشمۂ خوں کا خوں بہا جوئے رواں نہیں نہیں
عرفان صدیقی

تنگ آیا ہوں سو پیراہن جاں کھولتا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 141
لو، میں راز ہنر چارہ گراں کھولتا ہوں
تنگ آیا ہوں سو پیراہن جاں کھولتا ہوں
یہ بھی دیکھوں ترے افلاک میں رکھا کیا ہے
آج میں بال و پر وہم و گماں کھولتا ہوں
بھولتا بھی نہیں، نام اس کا بتاتا بھی نہیں
بند کرتا ہوں نہ یہ دل کی دُکاں کھولتا ہوں
MERGED تو بھی دیکھے ترے افلاک کی وسعت کیا ہے
آج میں بال و پر، ہم و گماں کھولتا ہوں
بھولتا بھی نہیں نام اس کا بتاتا بھی نہیں
نہ بڑھاتا ہوں نہ یہ دل کی دکاں کھولتا ہوں
عرفان صدیقی

ساتھ ہے کوئی تو عمر گزراں ہے جاناں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 132
موج گل ہے نہ کہیں آب رواں ہے جاناں
ساتھ ہے کوئی تو عمر گزراں ہے جاناں
ابھی آتا ہے نظر چاند میں چہرہ تیرا
ایک دو پل میں یہ منظر بھی دھواں ہے جاناں
تو جو بولے تو سنوں میں تری آواز کا سچ
ہر طرف خاموشی وہم و گماں ہے جاناں
موسم ہجر سے اس درجہ سبک سار ہے دل
اس پہ اب حرف محبت بھی گراں ہے جاناں
آج تک جو نہ کیا اس کی تلافی کے لیے
اب یہ ذکر لب و رخسار بتاں ہے جاناں
ہم کچھ اس طرح سناتے ہیں کہانی اپنی
کوئی سمجھے کہ حدیث دگراں ہے جاناں
جو کبھی تونے کہا اور نہ کبھی ہم نے سنا
وہی اک لفظ تو سرنامۂ جاں ہے جاناں
عرفان صدیقی

کون ہے جس کے لیے نامۂ جاں لکھتے ہو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 123
تم جو عرفانؔ یہ سب دردِ نہاں لکھتے ہو
کون ہے جس کے لیے نامۂ جاں لکھتے ہو
جانتے ہو کہ کوئی موج مٹا دے گی اسے
پھر بھی کیا کیا سرِ ریگِ گزراں لکھتے ہو
جس کے حلقے کا نشاں بھی نہیں باقی کوئی
اب تک اس رشتے کو زنجیرِ گراں لکھتے ہو
یہ بھی کہتے ہو کہ احوال لکھا ہے جی کا
اور یہ بھی کہ حدیثِ دگراں لکھتے ہو
یہ بھی لکھتے ہو کہ معلوم نہیں ان کا پتا
اور خط بھی طرفِ گمشدگاں لکھتے ہو
سایہ نکلے گا جو پیکر نظر آتا ہے تمہیں
وہم ٹھہرے گا جسے سروِ رواں لکھتے ہو
اتنی مدت تو سلگتا نہیں رہتا کچھ بھی
اور کچھ ہو گا جسے دل کا دھواں لکھتے ہو
کوئی دلدار نہیں تھا تو جتاتے کیا ہو
کیا چھپاتے ہو اگر اس کا نشاں لکھتے ہو
تم جو لکھتے ہو وہ دُنیا کہیں ملتی ہی نہیں
کون سے شہر میں رہتے ہو‘ کہاں لکھتے ہو
عرفان صدیقی

وہ آدمی تھا غلط فہمیاں بھی رکھتا تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 46
مروّتوں پہ وفا کا گماں بھی رکھتا تھا
وہ آدمی تھا غلط فہمیاں بھی رکھتا تھا
بہت دِنوں میں یہ بادل اِدھر سے گزرا ہے
مرا مکان کبھی سائباں بھی رکھتا تھا
عجیب شخص تھا، بچتا بھی تھا حوادث سے
پھر اپنے جسم پہ الزامِ جاں بھی رکھتا تھا
ڈبو دیا ہے تو اَب اِس کا کیا گلہ کیجیے
یہی بہاؤ سفینے رواں بھی رکھتا تھا
توُ یہ نہ دیکھ کہ سب ٹہنیاں سلامت ہیں
کہ یہ درخت تھا اور پتّیاں بھی رکھتا تھا
ہر ایک ذرّہ تھا گردش میں آسماں کی طرح
میں اپنا پاؤں زمیں پر جہاں بھی رکھتا تھا
لپٹ بھی جاتا تھا اکثر وہ میرے سینے سے
اور ایک فاصلہ سا درمیاں بھی رکھتا تھا
عرفان صدیقی

اک ذرا منظرِ غرقابی جاں دیکھئے گا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 41
ہر طرف ڈوبتے سورج کا سماں دیکھئے گا
اک ذرا منظرِ غرقابی جاں دیکھئے گا
سیرِ غرناطہ و بغداد سے فرصت پاکر
اس خرابے میں بھی خوابوں کے نشاں دیکھئے گا
یہ در و بام یہ چہرے یہ قبائیں یہ چراغ
دیکھئے بارِ دگر ان کو کہاں دیکھئے گا
راہ میں اور بھی قاتل ہیں اجازت لیجے
جیتے رہیے گا تو پھر کوئے بتاں دیکھئے گا
شاخ پر جھومتے رہنے کا تماشا کیا ہے
کبھی صرصر میں ہمیں رقص کناں دیکھئے گا
یہی دُنیا ہے تو اس تیغِ مکافات کی دھار
ایک دن گردنِ خنجر پہ رواں دیکھئے گا
دل طرفدارِ حرم، جسم گرفتارِ فرنگ
ہم نے کیا وضع نکالی ہے میاں دیکھئے گا
عرفان صدیقی

بجھ تو گیا مگر چراغ شعلہ فشاں بہت ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 30
تجھ کو بھی اے ہوائے شب جی کا زیاں بہت ہوا
بجھ تو گیا مگر چراغ شعلہ فشاں بہت ہوا
رختِ سفر اُٹھا گیا کون سرائے خواب سے
رات پھر اس نواح میں گریۂ جاں بہت ہوا
موسمِ گل سے کم نہ تھا موسمِ انتظار بھی
شاخ پہ برگِ آخری رقص کناں بہت ہوا
کوئی افق تو ہو کہ ہم جس کی طرف پلٹ سکیں
شام ہوئی تو یہ خیال دل پہ گراں بہت ہوا
عرفان صدیقی

پسِ شامِ تن جو پکارنا سرِ بامِ جاں اسے دیکھنا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 23
وہ ہلالِ ماہِ وصال ہے دلِ مہرباں اسے دیکھنا
پسِ شامِ تن جو پکارنا سرِ بامِ جاں اسے دیکھنا
مری عاشقی مری شاعری ہے سمندروں کی شناوری
وہی ہم کنار اسے چاہنا وہی بے کراں اسے دیکھنا
وہ ستارہ ہے سرِ آسماں ابھی میری شامِ زوال میں
کبھی میرے دستِ کمال میں تہہِ آسماں اسے دیکھنا
وہ ملا تھا نخلِ مراد سا ابھی مجھ کو نجدِ خیال میں
تو ذرا غبارِ شمال میں مرے سارباں اسے دیکھنا
نہ ملے خبر کبھی دوستو مرے حال میرے ملال کی
تو بچھڑ کے اپنے حبیب سے پسِ کارواں اسے دیکھنا
عرفان صدیقی

دل مزاجاً میری جاں معشوق ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 617
عشق میں کوئی کہاں معشوق ہے
دل مزاجاً میری جاں معشوق ہے
جس سے گزرا ہی نہیں ہوں عمر بھر
وہ گلی وہ آستاں معشوق ہے
رفتہ رفتہ کیسی تبدیلی ہوئی
میں جہاں تھا اب وہاں معشوق ہے
ہے رقیبِ دلربا اک ایک آنکھ
کہ مرا یہ آسماں معشوق ہے
مشورہ جا کے زلیخا سے کروں
کیا کروں نامہرباں معشوق ہے
صبحِ ہجراں سے نشیبِ خاک کا
جلوۂ آب رواں معشوق ہے
ہیں مقابل ہر جگہ دو طاقتیں
اور ان کے درمیاں معشوق ہے
گھنٹیاں کہتی ہیں دشتِ یاد کی
اونٹنی کا سارباں معشوق ہے
وہ علاقہ کیا زمیں پر ہے کہیں
ان دنوں میرا جہاں معشوق ہے
میں جہاں دیدہ سمندر کی طرح
اور ندی سی نوجواں معشوق ہے
ہر طرف موجودگی منصور کی
کس قدر یہ بے کراں معشوق ہے
منصور آفاق

کوئی دلچسپی، کوئی ربطِ دل و جاں جاناں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 266
صحبتِ قوسِ قزح کا کوئی امکاں جاناں
کوئی دلچسپی، کوئی ربطِ دل و جاں جاناں
میرے اندازِ ملاقات پہ ناراض نہ ہو
مجھ پہ گزرا ہے ابھی موسمِ ہجراں جاناں
جو مرے نام کو دنیا میں لیے پھرتے ہیں
تیری بخشش ہیں یہ اوراقِ پریشاں جاناں
آ مرے درد کے پہلو میں دھڑک کہ مجھ میں
بجھتی جاتی ہے تری یادِ فروزاں جاناں
تیری کھڑکی کہ کئی دن سے مقفل مجھ پر
جیسے کھلتا نہیں دروازئہ زنداں جاناں
تیری گلیاں ہیں ترا شہر ہے تیرا کوچہ
میں ، مرے ساتھ ترا وعدہ و پیماں جاناں
پھر کوئی نظم لٹکتی ہے ترے کعبہ پر
پھر مرے صبر کی بے چارگی عنواں جاناں
ہجر کا ایک تعلق ہے اسے رہنے دے
میرے پہلو میں تری یاد ہراساں جاناں
ہم فرشتوں کی طرح گھر میں نہیں رہ سکتے
ہاں ضروری ہے بہت رشتہء انساں جاناں
زخم آیا تھا کسی اور کی جانب سے مگر
میں نے جو غور کیا تیرا تھا احساں جاناں
اس تعلق میں کئی موڑ بڑے نازک ہیں
اور ہم دونوں ابھی تھوڑے سے ناداں جاناں
دشت میں بھی مجھے خوشبو سے معطر رکھے
دائم آباد رہے تیرا گلستاں جاناں
ویسا الماری میں لٹکا ہے عروسی ملبوس
بس اسی طرح پڑا ہے ترا ساماں جاناں
مجھ کو غالب نے کہا رات فلک سے آ کر
تم بھی تصویر کے پردے میں ہو عریاں جاناں
وہ جو رُوٹھی ہوئی رت کو بھی منا لیتے ہیں
بس وہی شعرِ فراز اپنا دبستاں جاناں
روشنی دل کی پہنچ پائی نہ گھر تک تیرے
میں نے پلکوں پہ کیا کتنا چراغاں جاناں
کیا کہوں ہجر کہاں وصل کہاں ہے مجھ میں
ایک جیسے ہیں یہاں شہر و بیاباں جاناں
چھت پہ چڑھ کے میں تمہیں دیکھ لیا کرتا تھا
تم نظر آتی تھی بچپن سے نمایاں جاناں
اک ذرا ٹھہر کہ منظر کو گرفتار کروں
کیمرہ لائے ابھی دیدئہ حیراں جاناں
مانگ کر لائے ہیں آنسو مری چشمِ نم سے
یہ جو بادل ہیں ترے شہر کے مہماں جاناں
لڑکیاں فین ہیں میری انہیں دشنام نہ دے
تتلیاں پھول سے کیسے ہوں گریزاں جاناں
آگ سے لختِ جگر اترے ہیں تازہ تازہ
خانہء دل میں ہے پھر دعوتِ مژگاں جاناں
زخم در زخم لگیں دل کی نمائش گاہیں
اور ہر ہاتھ میں ہے ایک نمکداں جاناں
تھم نہیں سکتے بجز تیرے کرم کے، مجھ میں
کروٹیں لیتے ہوئے درد کے طوفاں جاناں
بلب جلتے رہیں نیلاہٹیں پھیلاتے ہوئے
میرے کمرے میں رہے تیرا شبستاں جاناں
رات ہوتے ہی اترتا ہے نظر پر میری
تیری کھڑکی سے کوئی مہرِ درخشاں جاناں
تُو کہیں بستر کمخواب پہ لیٹی ہو گی
پھر رہا ہوں میں کہیں چاک گریباں جاناں
نذرِ احمد فراز
منصور آفاق

بہتے پانی کی قسم، گریۂ جاں کارِ عبث

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 143
ساحلِ یاد پہ آہوں کا دھواں کارِ عبث
بہتے پانی کی قسم، گریۂ جاں کارِ عبث
دھوپ میں ساتھ بھلا کیسے وہ دے سکتا تھا
ایک سائے کے لیے آہ و فغاں کارِ عبث
میں تماشا ہوں تماشائی نہیں ہو سکتا
یہ فلک فہمی یہ تسخیرِ جہاں کارِ عبث
تیرے ہونے سے مہ و مہر مرے ہوتے تھے
اب تو ہے سلسلہء کون و مکاں کارِ عبث
یہ الگ چیختے رنگوں کا ہوں شاعر میں بھی
ہے مگر غلغلہء نام و نشاں کارِ عبث
ایک جھونکے کے تصرف پہ ہے قصہ موقوف
بلبلے اور سرِ آب رواں کار عبث
خیر باقی رہے یا شر کی عمل داری ہو
دونوں موجود ہوں تو امن و اماں کارِ عبث
کوئی انگلی، کوئی مضراب نہیں کچھ بھی نہیں
کھینچ رکھی گئی تارِ رگِ جاں کارِ عبث
رہ گئے جنت و دوزخ کہیں پیچھے منصور
اب جہاں میں ہوں وہاں سود و زیاں کارِ عبث
منصور آفاق

بات اس کی کاٹتے رہے اور ہمزباں رہے

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 23
کل مدعی کو آپ پر کیا کیا گماں رہے
بات اس کی کاٹتے رہے اور ہمزباں رہے
یارانِ تیز گام نے محمل کو جالیا
ہم محوِ نالۂ جرسِ کارواں رہے
یا کھینچ لائے دہر سے رندوں کو اہلِ وعظ
یا آپ بھی ملازمِ پیر مغاں رہے
وصل مدام سے بھی ہماری بجھی نہ پیاس
ڈوبے ہم آبِ خضر میں اور نیم جاں رہے
کل کی خبر ہو تو جھوٹے کا رو سیاہ
تم مدعی کے گھر گئے اور مہماں رہے
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
حالیؔ کے بعد کوئی نہ ہمدرد پھر ملا
کچھ راز تھے کہ دل میں ہمارے نہاں رہے
الطاف حسین حالی

اِک جانِ ناتواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 23
شمشیر ہے سناں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
اِک جانِ ناتواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
مہمان اِدھر ہما ہے اُدھر ہے سگِ حبیب
اِک مشتِ استخواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
درباں ہزار اس کے یہاں ایک نقدِ جاں
مال اس قدر کہاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
بلبل کو بھی ہے پھولوں کی گلچیں کو بھی طلب
حیران باغباں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
سب چاہتے ہیں اس سے جو وعدہ وصال کا
کہتا ہے اک زباں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
شہزادے دختِ رز کے ہزاروں ہی خواستگار
چپ مرشدِ مغاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
یاروں کو بھی ہے بوسے کی غیروں کو بھی طلب
ششدر وہ جانِ جاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
دل مجھ سے مانگتے ہیں ہزاروں حسیں امیر
کتنا یہ ارمغاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
امیر مینائی

پھر بھی ہم ملنے کے ارماں میں رہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 258
وہ رگ دل میں رگ جاں میں رہے
پھر بھی ہم ملنے کے ارماں میں رہے
نیند کانٹوں پہ بھی آ جاتی ہے
گھر کہاں تھا کہ بیاباں میں رہے
رنگ دنیا پہ نظر رکھتے تھے
عمر بھر دیدۂ حیراں میں رہے
بُعد اتنا کہ تصور بھی محال
قرب ایسا کہ رگ جاں میں رہے
عمر بھر نور سحر کو ترسے
دو گھڑی تیرے شبستاں میں رہے
قافلے صبح کے گزرے ہوں گے
ہم خیال شب ہجراں میں رہے
کس قیامت کی تپش ہے باقیؔ
کون میرے دل سوزاں میں رہے
باقی صدیقی

تیرے جلوے یہاں وہاں دیکھے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 234
دشت دیکھے ہیں گلستاں دیکھے
تیرے جلوے یہاں وہاں دیکھے
اس کو کہتے ہیں تیرا لطف و کرم
خشک شاخوں پہ آشیاں دیکھے
جو جہاں کی نظر میں کانٹا تھے
ہم نے آباد وہ مکاں دیکھے
دوستوں میں ہے تیرے لطف کا رنگ
کوئی کیوں بغض دشمنان دیکھے
جو نہیں چاہتا اماں تیری
مانگ کر غیر سے اماں دیکھے
تیری قدرت سے ہے جسے انکار
اٹھکے وہ صبح کا سماں دیکھے
یہ حسیں سلسلہ ستاروں کا
کوئی تا حد آسماں دیکھے
ایک قطرہ جہاں نہ ملتا تھا
ہم نے چشمے وہاں رواں دیکھے
کس نے مٹی میں روح پھونکی ہے
کوئی یہ ربط جسم و جاں دیکھے
دیکھ کر بیچ و تاب دریا کا
یہ سفینے پہ بادباں دیکھے
جس کو تیری رضا سے مطلب ہے
سود دیکھے نہ وہ زیاں دیکھے
باقی صدیقی

سود دیکھا ہے اب زیاں دیکھو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 93
دل کے مٹنے لگے نشاں دیکھو
سود دیکھا ہے اب زیاں دیکھو
ہر کلی سے لہو ٹپکنے لگا
شوق تعمیر گلستاں دیکھو
بار صیاد ہے کہ بار ثمر
جھک گئی شاخ آشیاں دیکھو
دل کا انجام ایک قطرہ خوں
حاصل بحر بیکراں دیکھو
سائے کرنوں کے ساتھ چلتے ہیں
صبح میں شام کا سماں دیکھو
داغ آئینہ بن گئے فرسنگ
سفر شوق کے نشاں دیکھو
پڑ گئی سرد آتش احساس
جم گیا خون عاشقاں دیکھو
لو دلوں کی حدیں سمٹنے لگیں
تنگ ہے کس قدر جہاں دیکھو
تم بھی کہنے لگے خدا لگتی
لڑکھڑانے لگی زباں دیکھو
دل کا ہر زخم ہے زباں اپنی
اس پہ یہ حسرت بیاں دیکھو
آگ سے کھیلتے ہو کیوں باقیؔ
اپنا دل دیکھو اپنی جاں دیکھو
باقی صدیقی

پھر جہان گزراں یاد آیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 64
سود یاد آیا، زیاں یاد آیا
پھر جہان گزراں یاد آیا
ہوش آنے لگا دیوانے کو
عقل کا سنگ گراں یاد آیا
جرس غم نے پکارا ہم کو
کاروان دل و جاں یاد آیا
اک نہ اک زخم رہا پیش نظر
تم نہ یاد آئے جہاں یاد آیا
نیند چبھنے لگی بند آنکھوں میں
جب چراغوں کا دھواں یاد آیا
کوئی ہنگامۂ روز و شب میں
یاد آ کر بھی کہاں یاد آیا
دیکھ کر صورت منزل باقیؔ
دعویٔ ہمسفراں یاد آیا
باقی صدیقی