ٹیگ کے محفوظات: تہذیب

رونمائی کی تقریب منسوخ کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 171
اپنے چہرے کی تشبیب منسوخ کر
رونمائی کی تقریب منسوخ کر
اپنا دکھ پیش کر سادہ الفاظ میں
اتنی مشکل تراکیب منسوخ کر
لفظ تیرے زمانے کے عکاس ہوں
اب گذشتہ اسالیب منسوخ کر
حدِ فاصل کوئی کھینچ دن رات میں
دوغلے پن کی تہذیب منسوخ کر
خون سے بھر گئی ہے مری ہر گلی
اپنا اب ذوقِ تخریب منسوخ کر
ظلم کو ظلم کہہ ، رات کو رات لکھ
ظالموں کی نہ تکذیب منسوخ کر
روشنی کے لگا پول ہر چوک میں
اب صلیبوں کی تنصیب منسوخ کر
عادتاً تُو مسلسل یہ لیکچر نہ دے
بے وجہ اپنی تادیب منسوخ کر
تیری منزل پہ رکنا نہیں ہے مجھے
یہ محبت کی ترغیب منسوخ کر
دارپر پہلے جانا ہے منصور نے
عاشقوں کی یہ ترتیب منسوخ کر
منصور آفاق