ٹیگ کے محفوظات: تِیتری تُو نے کیا بات کی

تِیتری تُو نے کیا بات کی

تِیتری …

تُو نے کیا بات کی

اَدھ کِھلی پنکھڑی کا نویلا بدن

یک بیک چونک کر کپکپانے لگا

رات سے پھول کے

نرم بستر پہ مدہوش

شبنم کے قطرے

جواں سال پتوں کی ڈھلوان پر سے

لُڑھکنے لگے …

غُل مچاتے پرندے

ٹھٹک کر

بڑی دیر تک

گول ، حیران آنکھیں گھماتے رہے

اُجلے جھونکے

لچکتے ، لپکتے ہوئے

اجنبی پیڑ کے

سبز آنچل میں

چہرہ چھپانے لگے

تِیتری …

تُو نے ایسی بھی کیا بات کی

اِک عجب سنسنی سی

ہواؤں کے ہونٹوں پہ

ٹھہری رہی

اور چمن کا چمن

خوف کے کالے، خاموش

پنجوں میں جکڑا رہا

پر اِدھر

ایک معصوم ، سہما ہوا

زرد غنچہ

بڑی دیر تک

مسکراتا رہا …

گلناز کوثر