کھوئی کھوئی سبک تتلیاں
دھیرے دھیرے بہت کپکپاتے ہوئے
اور لرزتے ہوئے
اُجلے حیراں کٹوروں کے نمناک گوشوں کو
چھُوتی ہیں … ڈرتی ہیں … ڈر کے پلٹتی ہیں
بے تاب … دھڑ دھڑ دھڑکتی ہوئی
جھالروں کے تلے
لمحہ لمحہ سلگتی ہوئی … بدلیاں
کھوجتی ہیں نئے آسماں … تتلیاں
کھوئی کھوئی، پریشان، گُم صُ، بھٹکتی ہوئی
قطرہ قطرہ پگھلتی ہوئی کرچیاں
وقت کی راکھ سے
ادھ بُنے خواب چُنتی ہیں
چپکے سے لکھتی ہیں … سہمی ہوئی … درد کی داستاں
اُلجھی اُلجھی ہوئی بے زباں تتلیاں
سوچتی ہیں بہت
کچھ بھی کہتی نہیں
ڈوبتی ہیں، اُبھرتی ہیں
برفاب ساحل پہ ٹوٹی ہوئی … کشتیاں
تیز سرکش ہواؤں کے دھارے پہ بہتی ہوئی
پر شکستہ، بہت ہولے ہولے سنبھلتی ہوئی … تتلیاں
چوری چوری اُترتی ہیں گمنام رستوں پہ
کب سے بھڑکتے ہوئے اِک الاؤ کو چھوتی ہیں
جلتے ہوئے سرد، بے چین دل پر مرے
ہاتھ رکھتی ہیں پر
کچھ بھی کہتی نہیں
دھیرے دھیرے … بہت کپکپاتے ہوئے
اور لرزتے ہوئے
کھوئی کھوئی سبک تتلیاں